Suno News
عمران خان نے میرا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا: خاور مانیکا
Image

لاہور: (سنو نیوز) بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے بڑے راز افشا کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے میرا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا، عمران خان سے بشریٰ بی بی کی ملاقات اسلام آباد دھرنوں کے دوران ہوئی، دونوں کی رات کو دیر تک چھپ چھپ کر فون پر باتیں ہوتی تھیں۔

بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہہ سابق وزیراعظم عمران خان نے پنکی کو باقاعدہ مرشد بنایا اور گھر میں آنا جانا شروع ہوگیا، میں نے پنکی کو طلاق 14 نومبر 2017 کو دی، اس کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی انہوں نے شادی کرلی، فرح گوگی نے فون کر کے کہا طلاق کی تاریخ تبدیل کر دیں، زلفی بخاری اور فرح کے فون آئے آپ خاموش رہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے وزیر اعظم بننا ہے۔

خاور مانیکا کا کہنا تھا کہ فرح گوگی نے چیئرمین پی ٹی آئی کے کہنے پر بشریٰ بی بی کو فون دیا، اس کے بعد انہوں نے فون بدل دیا، چھپ کر باتیں شروع ہوئیں، میں پنکی سے کہتا تھا فون کرتا ہوں تو آپ سے بات نہیں ہوتی، میری پوسٹنگ کراچی میں تھی نوکر کو کہتا تھا فون کیوں نہیں اٹھایا جا رہا ؟ میری اجازت کے بغیر آ کر یہ گھنٹوں بیٹھے رہتے تھے، پنکی کو ڈانٹا کہ مجھے بتا تو دیا کرو کہ اس نے آنا ہے، اس بات پر پنکی مجھ سے ذرا ناراض بھی ہوتی تھیں، چیئرمین پی ٹی آئی اور ذلفی بخاری گھنٹوں آکر بیٹھے رہتے تھے۔

سائفر کیس میں جیل ٹرائل کیخلاف عمران خان کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

ان کا کہنا تھا کہ بنی گالہ جاکر پنکی گھنٹوں وہاں گزارتیں، پنکی میں اچھی خاصی تبدیلی آگئی تھی، بشریٰ بی بی نے مجھ سے ضد کی اپنی والدہ اور بھائی کے گھر میں رہنا چاہتی ہوں، بشریٰ بی بی اپنا سامان اٹھا کر چلیں گئیں، بچوں نے بھی ضد کی، میری والدہ کہتی تھیں وہ آکیوں نہیں رہی، والدہ اور ہمشیرہ نے کہا ہم لے آتے ہیں میں نے کہا وہ آجائیں گی، میں نے ایک بار جاکر کہا گھر چلنا نہیں ہے ؟ کہنے لگیں ابھی نہیں۔

خاور مانیکا نے مزید بتایاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوشگوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا۔

ان کا کہنا تھاکہ اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں، میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں، فرح گوگی نے عمران کے کہنے پر انھیں خفیہ فون نمبر فراہم کیے، ان کی موبائل فون پر چھپ کر باتیں ہونے لگیں۔

خاور مانیکا نے کہا کہ بنی گالہ میں میرا اپنا گھر تھا، بشریٰ مجھے بتائے بغیر وہاں سے عمران خان کے گھر چلی جاتی تھی، شادی سے 6 ماہ پہلے بشریٰ بی بی مجھ سے علیحدہ ہو کر اپنے گھر چلی گئی، میں پاک پتن اس کے میکے گیا اور اپنے ساتھ چلنے کا کہا، بشریٰ بی بی نے جواب دیا، میاں صاحب ابھی نہیں، پھر ایک دن فرح گوگی نے مجھے موبائل پر پیغام بھیجا کہ پنکی کو طلاق دے دیں۔

انہوں نے کہا کہ میں بشریٰ کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ کیا تم طلاق چاہتی ہو؟ اس نے سر جھکا لیا اور کوئی جواب نہیں دیا، میں نے 14 نومبر 2017 کو طلاق نامہ فرح گوگی کے ہاتھ بشریٰ بی بی کو بھجوایا، میں نے پنکی کو طلاق 14 نومبر 2017 کو دی، اس کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی اس نے عمران خان سے شادی کر لی، اس شادی کا مجھے اور میرے بچوں کو علم ہی نہیں تھا اس لیے جیو اور دا نیوز نے جب شادی کی خبر بریک کی تو اس کی تردید کی تھی۔