Suno News
اوپن اے آئی ملازمین کا سیم آلٹ مین کی واپسی کا مطالبہ
Image

کیلیفورنیا: (سنو نیوز) اوپن اے آئی کے 95 فیصد سے زیادہ ملازمین نے کمپنی کو خط میں دھمکی دی ہے کہ اگر سیم آلٹ مین اس مصنوعی ذہانت کمپنی کے سی ای او کے پاس واپس نہیں آتے ہیں تو وہ اپنی نوکریوں سے استعفے دے دیں گے۔ کمپنی کےمطابق 700 سے زائد ملازمین نے سام آلٹ مین کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے بورڈ کے ان ارکان کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا ہے ، جنہوں نے گذشتہ ہفتے آلٹ مین کو برطرف کیا تھا۔ یہ صورتحال مصنوعی ذہانت اور چیٹ جی پی ٹی بنانے والی اس معروف کمپنی کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے۔ اس دھمکی کے بعد پیر کو کمپنی کا دفتر خالی تھا اور کوئی ملازم کام پر نہیںآیا۔

خیال رہے کہ شریک بانی سیم آلٹ مین اور گریگ بروک مین نے مائیکروسافٹ میں شامل ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ برطرفی کی وجہ کیا تھی لیکن بظاہر ان دونوں پر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ساتھ ایماندار نہ ہونے کا الزام تھا۔ Microsoft OpenAI کے اہم سرمایہ کاروں میں سے ایک رہا ہے۔

بورڈ کے ممبران میں سے ایک الیا سوٹسکر، جنہوں نے آلٹ مین کو برطرف کیا تھا، اس اقدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی OpenAI کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور کمپنی کو دوبارہ جوڑنے کے لیے کچھ بھی کریں گے۔ OpenAI نے اعلان کیا ہے کہ Emmett Shear، Twitch Technologies کے سابق CEO، عبوری CEO کے طور پر کام کریں گے۔

مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ ناڈیلا نے اعلان کیا ہے کہ آلٹ مین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک تحقیقی گروپ کی قیادت کریں گے۔ آلٹ مین، جن کی عمر 38 سال ہے، مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی صنعت کی مشہور شخصیات اور OpenAI کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:چیٹ جی پی ٹی کمپنی نے سی ای او کو برطرف کر دیا

اوپن اے آئی کمپنی نے چیٹ جی پی ٹی بوٹ کی تخلیق کر کے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک نیا قدم رکھا تھا جس سے ٹیکنالوجی میں بہت پیش رفت ہوئی تھی،38 سالہ سیم اس ابھرتی ہوئی صنعت کیلئے ترجمان بھی بن گئے تھے۔

رواں سال 2023 ء میں انہوں نے کانگریس کے سامنے مصنوعی ذہانت کے نئے قوانین بارے گواہی دینے کیلئے خود پیش کیا تھا،سوشل میڈیا پر سیم الٹ مین نے لکھا کہ انکا کمپنی میں اچھا وقت گزراہے۔ سیم نے مزید لکھا کہ بورڈ کے اس فیصلے نے مجھے ذاتی طور پر بہت تبدیل کیا، مجھے سب سے زیادہ ہونہار لوگوں کیساتھ کام کرنا پسند آیا ہے ۔

کمپنی کے بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ سیم آلٹ مین کے کام پر ان شکرگزار ہیں لیکن بورڈ کے اراکین کا ماننا ہے کہ کمپنی کو اب ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ کمپنی کے بورڈ ممبران نے کہا کہ بورڈ کو سیم کی اوپن اے آئی کو چلانے کی قائدانہ صلاحیت پر اب اعتماد نہیں رہا،کمپنی کے اس اعلان نے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ہل چل مچا دی ہے۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر گوگل کے سابق سی ای او ایرک شمٹ نے لکھا کہ سیم آلٹ مین میرا ہیرو ہے، اس نے اس کمپنی کو صفر سے 90 بلین ڈالر تک پہنچا دیا اور ہماری اجتماعی دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا، میں یہ دیکھنے کے لیے انتظار نہیں کر سکتا کہ وہ آگے کیا کرتا ہے، اب میں اور اربوں لوگ اسکے کام سے فائدہ اٹھائیں گے، سیم آپ کو بہت شکریہ، آپ نے ہمارے لیے بہت کام کیا۔

خیال رہے کہ اوپن اے آئی کی شروعات 2015 ء میں نان پرافٹ کمپنی کے طور پر ہوئی تھی، سال 2019 ء میں اس کے ڈھانچے میں تبدیلی آئی اور اس میں مائیکروسافٹ نے کئی ارب ڈالر کی سرمایا کاری کی۔

چند ہفتے قبل یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ کمپنی ایسی قیمت پر ایک سرمایہ کار کو اپنے شیئرز بیچ رہی ہے جسکے بعد اس کی مالیت 80 بلین ڈالر سے زیادہ ہو جائے گی۔ اے آئی کمپنی کا کہنا ہے کہ جب تک بارڈ نیا مستقل کا سی ای او تلاش نہیں کرلیتی تب تک چیف ٹیکنالوجی آفیسر میرا موراتی نگراں سی ای او کے فرائض سر انجام دیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:اوپن اے آئی کی نئی سربراہ میرا مورتی کون ہیں؟