Suno News
غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی کیخلاف کیس کھلی عدالت میں لگانے کا حکم
Image
اسلام آباد: (سنو نیوز) سپریم کورٹ نے چیمبر اپیل میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی کیخلاف کیس کھلی عدالت میں لگانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس یحیی آفریدی نے فرحت اللہ بابر سمیت دیگر کی غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی روکنے کیلئے دائر درخواست پر ان چیمبر سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے چیمبر اپیل میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی کیخلاف کیس کھلی عدالت میں لگانے کا حکم دے دیا۔ رجسٹرار آفس نے درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی تھی۔ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف چیمبر اپیل دائر کی گئی تھی۔ ایک لاکھ 62 ہزار 479 افغان پناہ گزین وطن واپس چلے گئے یاد رہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو یکم نومبر 2023ء کے بعد خیبر پختون خوا میں پاک افغان سرحد، طور خم اور بلوچستان میں چمن بارڈر کے ذریعے اُن کے مُلک، افغانستان بھیجنے کے جس عمل کا آغاز ہوا، اُس کے تحت 11 نومبر تک دو لاکھ سے زاید افغان شہری اپنے وطن واپس جا چُکے ہیں۔ نگران حکومت نے غیر قانونی طور پر سکونت پذیر غیر ملکیوں کو یکم نومبر تک رضا کارانہ طور پر پاکستان چھوڑنے کی مہلت دی تھی اور یہ اہم فیصلہ نگران وزیرِ اعظم، انوارالحق کاکڑ کی صدارت میں ہونے والے’’اپیکس کمیٹی‘‘کے ایک اہم اجلاس میں ہوا۔ اس کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی مصدّقہ قانونی دستاویز کے بغیر پاکستان میں قیام کرنے والے افراد یکم نومبر 2023ء تک رضاکارانہ طور پر اپنے مُلک واپس چلے جائیں، بصورتِ دیگر اُن کے خلاف کارروائی ہوگی اور اُنہیں ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ اِس ضمن میں نگران وفاقی وزیرِ داخلہ، سرفراز بگٹی نے بتایا کہ رواں سال اب تک پاکستان میں 24خودکُش حملے ہو چُکے ہیں، جن میں سے 14حملوں میں افغان دہشت گردوں کے ملوّث ہونے کے واضح شواہد ملے ہیں، جب کہ 12ربیع الاوّل کو ہنگو میں حملہ کرنے والے دہشت گرد بھی افغانی تھے۔ اُنہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں افغان شہری ملوّث ہیں اور ان حملوں کی منصوبہ بندی بھی افغانستان ہی میں ہوتی ہے۔