یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا اعلان
ٹیلی وژن خطاب میں رشاد العلیمی نے کہا کہ حکومت نے ملک کی باقی ماندہ اراضی واپس لینے اور ریاستی اداروں کی عملداری بحال کرنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں موجود شہریوں سے اپیل کی کہ وہ یمنی مسلح افواج کے ساتھ تعاون کریں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کے دارالحکومت صنعا اور تیسرے بڑے شہر تعز میں حالیہ لڑائی اور فضائی حملوں کے بعد ملک میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:تربیتی پرواز کے دوران خوفناک طیارہ حادثہ، 6 اہلکار ہلاک
یمنی سرکاری افواج کے مطابق گزشتہ روز تعز کے اطراف مختلف محاذوں پر شدید جھڑپیں ہوئیں، جبکہ حوثی جنگجوؤں نے 3 دیہات پر قبضہ کرلیا۔
دوسری جانب حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ صنعا اور تعز سمیت کم از کم 3 صوبوں میں فضائی حملے کیے گئے، جن کا الزام سعودی قیادت میں قائم اتحاد پر عائد کیا گیا۔
یمنی حکومت کی حامی افواج کے ترجمان نے بھی صنعا میں اہم اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یمنی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 474 حملوں میں 1,540 حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے۔
یمنی حکام کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے جنوبی سعودی عرب کی جانب داغے گئے 3 بیلسٹک میزائل بھی روک لیے۔
یمن میں تازہ فوجی کارروائیوں اور شدید جھڑپوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔