"ڈیل یا تباہی" ایران کوفیصلہ کرنا ہو گا، ٹرمپ کا اقوامِ متحدہ میں خطاب
صدرٹرمپ نے کہا کہ انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کی جائے یا اسلامی جمہوریہ کو تباہ کردیا جائے۔ ان کے بقول ایران کے سامنے دو راستے ہیں، ایک معاہدہ کرکے دوبارہ تعمیر کا اور دوسرا ایسی تباہ کن صورتِ حال کا جس کے بعد بقا، مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لیے امید باقی نہ رہے۔
تاہم سخت انتباہ کے باوجود ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایران کے ساتھ بالآخر معاہدہ ہوجائے گا اور یہ امریکی مڈٹرم انتخابات کے فوراً بعد ہوسکتا ہے۔ ایران کے لیے معاہدے سے انکار کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران ان انتخابات کے نتائج کا انتظار کررہا ہے، لیکن اسے معلوم نہیں کہ وہ کہیں نہیں جا رہے اور ان کے پاس ابھی ڈھائی سال باقی ہیں۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے عالمی برادری سے ایران کو مکمل معاشی طور پر تنہا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں پر عمل درآمد میں امریکا کا ساتھ دیں، جب تک تہران تجارتی جہازوں کے خلاف حملے بند، اپنے جوہری عزائم ترک اور دہشت گردی کی حمایت ختم نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کے موخا میں سعودی فضائی حملہ، 6 افراد جاں بحق
صدر ٹرمپ نے خطاب کے آغاز میں اپنی حکومت کے دوسرے دور کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول امریکا ’’تاریک دور‘‘ سے نکل کر ’’سنہری دور‘‘ میں داخل ہوگیا ہے۔
غزہ کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہاں اب بھی جنگ جاری ہے اور حماس کی سرنگیں موجود ہیں۔ انہوں نے غزہ بورڈ کے لیے اربوں ڈالر کی فراہمی کا خیرمقدم کیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے تعلقات کی بنیاد پر 8 جنگیں رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کی جنگ بھی شامل ہے۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بڑے شاندار ہیں، جب کہ ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر نے 30 ملین افراد کی جان بچائی۔
امریکی صدر نے روس اور یوکرین کی جنگ ختم کرانے کی کوششیں جاری رکھنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ روس اور یوکرین کی قیادت کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں اور یہ جنگ ختم ہوجائے گی۔
کیوبا کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے اسے ایک ناکام ریاست قرار دیا اور کہا کہ امریکا وہاں صورتِ حال میں بنیادی تبدیلی چاہتا ہے۔ ان کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو کیوبا سے متعلق مذاکرات سنبھال رہے ہیں۔
وینزویلا کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہاں امریکی اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا مغربی نصف کرہ میں اپنے مفادات کے لیے خطرات کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرے گا۔
ٹرمپ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس ادارے سے علیحدہ ہوجائیں۔
مصنوعی ذہانت کے بارے میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اس شعبے میں چین سے آگے ہے اور وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو محدود نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس نے ’’سپر انٹیلیجنس‘‘ میں سبقت حاصل کی، وہی کامیاب ہوگا۔ انہوں نے امریکی سرکاری دستاویزات میں ’اے آئی‘ کی جگہ ’’سپر انٹیلیجنس‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کی تجویز بھی دی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا گرین لینڈ میں فوجی موجودگی بڑھائے گا۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکا گرین لینڈ میں دو مقامات پر فوجی موجودگی قائم یا بحال کرنے کے لیے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہا ہے۔