بھارت میں نوجوانوں کا احتجاج آؤٹ آف کنٹرول ہوگیا
دارالحکومت نئی دہلی سے شروع ہونے والا طلبہ اور نوجوانوں کا احتجاج اب ملک کے مختلف بڑے شہروں تک پھیل چکا ہے، جہاں مظاہرین حکومت کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج کا دائرہ نئی دہلی سے بڑھ کر ممبئی، پٹنہ، کیرالا اور گوا تک پہنچ گیا ہے، جہاں سینکڑوں طلبہ اور نوجوان سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ بار بار امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے لاکھوں امیدواروں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جبکہ حکومت اس مسئلے پر مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔
احتجاج کرنے والے طلبہ نے بھارتی وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔
نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صرف وزیراعظم کی جانب سے نوٹس لینا کافی نہیں، بلکہ پورے نظام میں موجود نااہلی اور بدعنوانی کیخلاف عملی اقدامات کیے جانے چاہییں۔ تنظیم کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ وزارتِ تعلیم سمیت مختلف اداروں میں نااہل افراد تعینات ہیں جو صرف ذاتی مفادات حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔
مظاہرین نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بعض حامی احتجاج کو بدنام کرنے کیلئے پتھراؤ جیسے واقعات کروا رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے حکومتی سطح پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی سعودی عرب کے ساتھ تاریخی جوہری معاہدے کی منظوری
دوسری جانب معروف بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی بھی نوجوانوں کے احتجاج میں شریک ہوئیں، انہوں نے معروف شاعر فیض احمد فیض کی مشہور نظم بول کہ لب آزاد ہیں تیرے سنا کر مظاہرین کا حوصلہ بڑھایا۔ ان کی شرکت کو سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل ہوئی۔