رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں میں ستر لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی، جو حالیہ برسوں کے سب سے بڑے عوامی احتجاجات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
یہ مظاہرے نو کنگز کے عنوان سے منعقد کیے گئے، جن میں امریکی عوام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کیخلاف شدید نعرے بازی کی، مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، حکومت کو فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔
اس موقع پر امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں دنیا کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں، امریکا میں آمریت کی کوئی گنجائش نہیں اور ایک فرد کو قانون سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
برنی سینڈرز نے مزید کہا کہ ماضی میں عراق جنگ کے حوالے سے عوام کو گمراہ کیا گیا اور اب ایران کے معاملے پر بھی اسی طرح کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت
انہوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں جاری تشدد کو روکنے کیلئے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی بند کی جائے اور امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو جنگی مقاصد کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔
مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سفارتی راستہ اختیار کرتے ہوئے خطے میں امن کو یقینی بنایا جائے۔