رپورٹس کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا جہاز ملتان اور ایک چارٹر بحری جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز سے نکل چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چارٹر جہاز میں تقریباً ساڑھے 8 کروڑ لیٹر خام تیل لدا ہوا ہے، جو پاکستان کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، دونوں جہازوں کی 31 مارچ کو پاکستان پہنچنے کی توقع ہے، جس سے ملک میں تیل کی فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال غیر یقینی کا شکار رہی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، ایسے میں ایرانی حکام کی جانب سے پاکستانی جہازوں کو خصوصی اجازت دینا ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس پیش رفت سے نہ صرف پاکستان کو فوری طور پر توانائی کے شعبے میں ریلیف ملے گا بلکہ مستقبل میں تجارتی روابط کے استحکام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خطے کے ممالک اپنی سرزمین دشمن کے حوالے نہ کریں،ایرانی صدر
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی کے باوجود تعاون کی فضا برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کیلئے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔