انہوں نے زور دیا ہے کہ ایران پہلے کسی پر حملہ نہیں کرتا، لیکن اگر اس کی بنیادی تنصیبات یا اقتصادی مراکز کو نقصان پہنچایا گیا تو ایران بھرپور جواب دینے کیلئے تیار ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے کئی بار کہا ہے کہ ایران پہل نہیں کرتا، مگر حملے کی صورت میں معاشی مراکز اور اہم انفراسٹرکچر پر کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دشمن کو اپنی سرزمین سے جنگ کرنے کی اجازت دینا خطے کے ممالک کے مفاد میں نہیں اور ایسی کسی بھی کوشش کی صورت میں ایران عبرتناک جواب دے گا۔
ایرانی صدر نے علاقائی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ کا حصہ نہ بنیں اور اپنی سرزمین پر دشمنوں کو کارروائی کی اجازت نہ دیں، جارحیت کے جواب میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے امریکی اڈوں پر بڑے حملوں کا دعویٰ کردیا
ذہن نشین رہے کہ مسعود پزشکیان کا بیان موجودہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی، اسرائیلی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان تناؤ کے پس منظر میں آیا ہے۔ ان کا یہ واضح پیغام خطے کے ممالک کیلئے انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ وہ اپنے علاقائی مفادات اور امن و ترقی کو ترجیح دیں۔