ذرائع کے مطابق تین بحری جہاز کویت سے تیل لے کر پاکستان پہنچیں گے، جس سے ملک میں توانائی کی فراہمی میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو چکا تھا، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو کونسل بلال بن ثاقب نے اس حوالے سے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا بحران صرف تیل تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عالمی سپلائی چین تک پھیل رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اس بحران کا ابتدائی مرحلہ ہے جبکہ اصل اثرات آنے والے دنوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کی آئل ریفائنری میں دھماکوں کے بعد آگ لگ گئی
ایران کی جانب سے اجازت ملنے سے وقتی طور پر پاکستان کو ریلیف مل سکتا ہے، تاہم خطے کی مجموعی صورتحال اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے، اس پیش رفت کے بعد حکومت کی جانب سے توانائی کے متبادل ذرائع اور سپلائی چین کو مستحکم بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں نے اس خبر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ تیل کی فراہمی میں بہتری سے ملک میں توانائی بحران میں کمی آئے گی۔
| فقہ جعفری | فقہ حنفی | شہر | ||
|---|---|---|---|---|
| افطار | سحر | افطار | سحر | |