رپورٹس کے مطابق اسرائیلی دفاعی نظام ان میزائلوں کو مؤثر انداز میں روکنے میں ناکام رہا، جس کے باعث حملوں کے اثرات زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آئے۔ اسرائیلی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی شہر عراد میں ہونے والے حملے میں کم از کم 116 افراد زخمی ہوئے، جبکہ ڈیمونا کے علاقے میں مزید 64 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے ابتدائی طور پر کم از کم 6 افراد کی ہلاکت کی بھی خبر دی تھی، تاہم سرکاری سطح پر ہلاکتوں کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی گئی۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عراد پر حملے کے وقت شہریوں کو بروقت الرٹ جاری نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل پر ایرانی حملے میں 6 افراد ہلاک، 180 زخمی
دوسری جانب ایران نے ان حملوں کو اسرائیل کی جانب سے نطنز کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کا جواب قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ڈیمونا کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، جہاں اسرائیل کا حساس ایٹمی ری ایکٹر واقع ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیمونا کے قریب واقع قصبہ اسٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ اسرائیل کی جوہری صلاحیتوں سے جڑا ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والے کلسٹر وار ہیڈز میزائل ایک بڑے علاقے میں تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے شہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ہتھیاروں کا استعمال خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر رہا ہے۔
عالمی برادری نے اس تازہ پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے اور طویل تنازع کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی امن اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
| فقہ جعفری | فقہ حنفی | شہر | ||
|---|---|---|---|---|
| افطار | سحر | افطار | سحر | |