غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق عراقی سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حملے کی شدت غیر معمولی تھی اور اسے گزشتہ حملوں کے مقابلے میں سب سے بڑا واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملے سے چند گھنٹے قبل ہی امریکی سفارتخانے کی جانب سے عراق میں موجود اپنے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا تھا، جس میں خبردار کیا گیا کہ ایران سے منسلک عسکریت پسند گروہ بار بار بغداد کے انٹرنیشنل زون کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور فضا میں دھواں پھیل گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم تاحال جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین کا آبنائے ہرمز میں فوجی مداخلت سے انکار
واقعے کے بعد عراقی سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سکیورٹی سخت کر دی گئی، جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
ماہر بین الاقوامی امور کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث سکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔