ایرانی فوج نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جنرل عبداللہ جلالی دشمن کے حملے کے دوران دفاعی کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے جب وہ وطن کے دفاع میں شہید ہوگئے۔
ایرانی فوجی حکام کے مطابق صیہونی ریاست کی جانب سے کیے گئے حملے میں بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی نے جام شہادت نوش کیا، وہ میدان میں موجود رہ کر دفاعی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے اور دشمن کے حملے کا بھرپور مقابلہ کر رہے تھے، ان کی شہادت وطن کے دفاع میں عظیم قربانی ہے۔
واضح رہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈر اور سیکیورٹی افسران شہید ہو چکے ہیں، جن کی شہادت کی باضابطہ تصدیق بھی کی جا چکی ہے۔
ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ان قربانیوں کے باوجود ملک کے دفاعی عزم میں کوئی کمی نہیں آئی، دشمن کیخلاف مزاحمت جاری رکھی جائے گی۔
اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، پاسداران انقلاب کے مطابق ایک نئے آپریشن کے دوران متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی بیسز پر بھی حملے کیے گئے، اس کے علاوہ خطے میں موجود اہم ریڈار نظاموں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکہ نے اپنے شہریوں کو عراق چھوڑنے کی ہدایت کردی
ایران نے واضح کیا کہ اپنے فوجی کمانڈروں کی شہادت کے باوجود دشمن کیخلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملکی دفاع کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔