امریکا: محکمہ تعلیم سے 1300 ملازمین کو نکالنے کا اعلان
امریکی وزیر تعلیم لنڈا میک موہن نے محکمہ تعلیم سے اپنے 1300 ملازمین کو نکالنے کا اعلان کر دیا
امریکی وزیر تعلیم لنڈا میک موہن نے محکمہ تعلیم سے 1300 ملازمین کو نکالنے کا اعلان کیا/ فائل فوٹو
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی وزیر تعلیم لنڈا میک موہن نے محکمہ تعلیم سے اپنے 1300 ملازمین کو نکالنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر تعلیم لنڈا میک موہن نے محکمہ تعلیم سے ملازمین کو نکالنے کے عمل کو ”امریکی تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک بڑا قدم“ قرار دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے آغاز میں محکمہ تعلیم میں 4133 ملازمین کام کر رہے تھے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محکمہ برائے تخفیف اخراجات (DOGE) کے اقدامات کے تحت محکمہ تعلیم کے صرف 572 ملازمین نے نوکری چھوڑنے کی پیشکش قبول کی۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق محکمہ تعلیم نے 1300 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مزید برآں محکمہ تعلیم میں آزمائش پر رکھے گئے درجنوں ملازمین بھی فارغ کر دیئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رواں ماہ 3 مارچ کو ٹرمپ کی منتخب کردہ امریکی سیکرٹری تعلیم لنڈا میک موہن نے ملازمین کو متنبہ کیا تھا کہ وہ میمو میں نمایاں کٹوتیوں کے لیے تیار رہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ محکمے کا بنیادی مقصد غیر ضروری بیوروکریسی کو کم کرنا اور ریاستوں کو زیادہ طاقت منتقل کرنا ہے۔ یہ علان اس وقت ہوا ہے جب امریکی سرکاری اداروں میں اخراجات کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت مختلف اداروں میں بھی ملازمین کی برطرفی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔