وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل اسمبلی کی سائیڈلائن پر ہونے والی اس ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے باہمی تعلقات سمیت علاقائی امور پر گفتگو کی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کی مکمل توجہ ایران جنگ کے خاتمے کیلئے ثالثی پر مرکوز ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر نے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ پر دستخط کیے تھے تاہم بدقسمتی سے اس کے بعد ہونے والے واقعات غیر متوقع تھے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے ساتھ ملاقات شروع ہو گئی.
— Prime Minister's Office (@PakPMO) September 24, 2026
ملاقات میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی شریک ہیں. نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف،… pic.twitter.com/vLbr4pieEz
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے بورڈ کا بڑا فیصلہ، نئے طیاروں کی شمولیت کی منظوری
انہوں نے کہا کہ ہم نے امید کا دمن نہیں چھوڑا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور پیش رفت کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مخلص اور دیانت دار ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، تمام دوست ممالک امن کے حصول کی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان دوبارہ سفارتی رابطوں کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔ امریکی اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاکستان اور قطر ایک بار پھر امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے متحرک ہیں۔