'صفائی کے سفیر': کراچی میں صفائی کیلئے خصوصی مہم کا آغاز

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے اپنے صفائی کے سفیر کے عنوان نے کراچی میں صفائی کیلئے عوامی آگاہی مہم کا آغاز کر دیا۔
فوٹو بشکریہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ
Updated | Published May, 8 2026 | Muhammad Bilal
کراچی: (ویب ڈیسک) سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے اپنے صفائی کے سفیر کے عنوان نے کراچی میں صفائی کیلئے عوامی آگاہی مہم کا آغاز کر دیا۔

اس اقدام کا مقصد شہریوں کو صفائی کے انتظامات میں ان کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اور ماحول کی صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر انتظامی طریقوں کو یقینی بنانا ہے۔

مہم کے تحت مختلف طبقوں سے مشہور شخصیات شہریوں کو اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف رکھنے کے لیے فعال طور پر حصہ لینے کی ترغیب دینے کے لیے خصوصی ویڈیو پیغامات شیئر کریں گی۔

صفائی کے سفیر مہم میں اس بات پر زور دیا جائے گا کہ پائیدار صفائی صرف اداروں اور شہریوں کی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔

مہم کے پہلے ویڈیو پیغام میں معروف سماجی کارکن رمضان چھیپا نے کہا کہ ایک صاف، سبز اور صحت مند کراچی تمام شہریوں کا مشترکہ خواب ہے، جو تب ہی حقیقت بن سکتا ہے جب ہر فرد کوڑے کو درست طریقے سے ٹھکانے لگائے اور ذمہ دار شہری رویہ اپنائے۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق علی نظامانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جدید فضلہ کا انتظامی نظام شہریوں کے درمیان رویے میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ چلنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مہم صفائی کو اجتماعی سماجی ذمہ داری میں تبدیل کرنے کا مقصد رکھتی ہے، جس کے ذریعے متاثر کن آوازوں کو کمیونٹیز میں مثبت عمل کی ترغیب دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: شہریوں سے صفائی کا بل لینے کیلئے نیا طریقہ کار طے

ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے رکن کاشف صدیقی نے کہا کہ ہمارا مقصد صفائی کو حکومت کے زیر قیادت کوششوں سے لوگوں کے زیر قیادت تحریک میں تبدیل کرنا ہے، جب معزز عوامی شخصیات مثبت سوشل پیغامات شیئر کرتی ہیں تو وہ کمیونٹی کو ذمہ دار عادتیں اپنانے کی ترغیب دیتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صفائی کے سفیر کے ذریعے، ہم شہریوں میں ملکیت کا احساس پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہر شخص ایک صاف اور صحت مند شہر کے لیے اپنا حصہ ڈالے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے ویڈیو پیغامات مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے تاکہ عوام تک پہنچنے کی کوشش کو بڑھایا جا سکے اور عوامی شمولیت کو زیادہ سے زیادہ کیا جا سکے۔