ان تجاویز کا بنیادی مقصد تعلیمی سال میں دوران تدریسی دنوں کی تعداد کو بڑھا کر کم از کم 180 سے 190 دن تک لانا ہے تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ اس وقت تعلیمی سال میں چھٹیوں کی بھرمار کی وجہ سے اصل تدریسی وقت بہت کم رہ جاتا ہے، اس مسئلے کے حل کیلئے موسم گرما کی چھٹیوں میں 15 سے 20 دن اور موسم سرما کی چھٹیوں میں 5 سے 6 دن کی کمی کی تجویز زیرِ غور ہے۔
اس کے علاوہ تعلیمی سیشن کو منظم کرنے کیلئے ہر دوسرے ہفتے (Alternate Saturday) کو اسکول کھولنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ میٹرک اور او/اے لیولز کے طلبہ کیلئے الگ الگ تعلیمی کلینڈرز تیار کیے جائیں گے تاکہ بین الاقوامی امتحانات کے شیڈول کے مطابق پڑھائی مکمل کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت کا بلوچستان کے طلبہ کیلئے اسکالرشپس کا اعلان
ذہن نشین رہے کہ مارچ 2026 میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایندھن کے بحران کی وجہ سے اسکولوں میں طویل بندش رہی تھی، جس کے بعد اب حکومت تدریسی عمل کو تیز کرنے کیلئے یہ اقدامات کر رہی ہے۔