تفصیلات کے مطابق بجلی کے نئے کنکشن حاصل کرنے والے صارفین کو اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی کے شعبہ میٹریل منیجمنٹ نے چند روز قبل اس میٹر کی قیمت 11 ہزار 665 روپے مقرر کی تھی، تاہم بعد ازاں ڈائریکٹر کسٹمر سروسز کی جانب سے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس کے تحت قیمت میں اضافہ کر دیا گیا۔ اس اچانک اضافے نے صارفین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 4 اپریل کو صوبے میں عام تعطیل کا اعلان
ماہرین کے مطابق سمارٹ میٹرز کی تنصیب کا مقصد بجلی کے استعمال کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ اس سے قبل سنگل فیز سٹیٹک میٹر کی قیمت تقریباً 4 ہزار روپے تھی، لیکن ان میٹرز پر پابندی کے بعد سمارٹ میٹرز کو لازمی قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں مجموعی لاگت میں تقریباً 13 ہزار روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق نئی قیمت میں صارفین کو دس میٹر کیبل فراہم کی جائے گی، جبکہ اس سے زائد کیبل کی ضرورت کی صورت میں اضافی رقم ادا کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ نئے کنکشن کے لیے سیکیورٹی ڈپازٹ بھی منظور شدہ لوڈ کے مطابق جمع کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس سے صارفین کے اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
بجلی صارفین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث گھریلو بجٹ متاثر ہو چکا ہے، اور اب سمارٹ میٹر کی قیمت میں اس قدر اضافہ نئے کنکشن لینے والوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ سمارٹ میٹرز جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، جو بجلی کے ضیاع کو کم کرنے اور بلنگ کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔