او جی ڈی سی ایل کے مطابق یہ پاکستان کا پہلا کامیاب ہوریزونٹل آئل ویل ہے، جسے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کنویں سے یومیہ تقریباً 460 بیرل خام تیل حاصل کیا جا رہا ہے، جو ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر میں مارکیٹس بند کرنے کے اوقات کار بحال
ترجمان او جی ڈی سی ایل کے مطابق پاساکھی-13 کنویں میں جدید جیوسٹیرنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے زیرِ زمین ریزروائر کے بہترین حصے کو ہدف بنایا گیا۔ اس جدید طریقہ کار سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ممکن ہوا بلکہ وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنایا گیا۔
ماہرین کے مطابق ہوریزونٹل ڈرلنگ ٹیکنالوجی روایتی عمودی کنوؤں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس سے زیر زمین موجود تیل کے ذخائر تک بہتر رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کامیابی کو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی نہ صرف ملکی توانائی کی حفاظت کو مضبوط بنائے گی بلکہ مقامی سطح پر ہائیڈروکاربن کی پیداوار میں اضافے کا باعث بھی بنے گی، جس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ اس منصوبے سے حاصل ہونے والے مثبت نتائج مستقبل میں مزید جدید منصوبوں کی راہ ہموار کریں گے اور پاکستان کے توانائی کے شعبے کو خود کفالت کی جانب گامزن کریں گے۔
| فقہ جعفری | فقہ حنفی | شہر | ||
|---|---|---|---|---|
| افطار | سحر | افطار | سحر | |