ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے امریکی دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت صرف خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہے، میزائل پروگرام خطے میں امن اور استحکام کے لئے ہے، پاکستان کی میزائل رینج بین البراعظمی سطح سے کم ہے۔
پاکستان نے بھارت کی 12 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارت کے طویل فاصلے کے میزائل خطے کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکا سے تعلقات باہمی احترام اور حقائق پر مبنی ہونے چاہئیں، خطے میں امن و استحکام کے لئے متوازن مؤقف اپنانے کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے پاکستان، روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کو امریکا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا افغانستان کیخلاف آپریشن غضب للحق میں عارضی وقفے کا اعلان
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ یہ پانچوں ممالک اپنے روایتی میزائلوں کو ایٹمی صلاحیت سے لیس کرنے میں مصروف ہیں۔
اس رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا کہ اسلام آباد مبینہ طور پر ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کر رہا ہے جو براہ راست امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
تاہم اب پاکستان کی جانب سے امریکی دعوؤں کو بے بنیاد قرار دے دیا گیا ہے، پاکستان کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کا میزائل پروگرام خطے میں امن اور استحکام کے لئے ہے، پاکستان کی میزائل رینج بین البراعظمی سطح سے کم ہے۔