چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے زخمی خواتین کی خیریت دریافت کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرین کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے۔ اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وظائف کی رقوم کی تقسیم پارٹنر بینکوں کے ذریعے کی جاتی ہے، تاہم اس واقعے کے تناظر میں متعلقہ بینک کی غفلت پر نوٹس جاری کرتے ہوئے بھاری جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھر بیٹھے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل ہونے کا آسان طریقہ
سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والی خواتین کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو فی کس 3 لاکھ روپے فراہم کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زخمی خواتین کا علاج بالکل مفت کیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کے بچوں کے تعلیمی وظائف بھی جاری رہیں گے تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔


بعد ازاں، سینیٹر روبینہ خالد افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والی بی آئی ایس پی کی چار مستحق خواتین انور مائی (چک 123)، پروین بی بی (چک 123)، شہناز خاتون (چک 125) اور علیمہ خاتون (چک 114) کے گھر بھی گئیں۔ انہوں نے مرحوم خواتین کیلئے دعائے مغفرت کی جبکہ اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔





اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔