اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عموماً ہر پندرہ روز بعد یا ہفتہ وار کیا جاتا ہے۔ لیکن عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بعض اوقات روزانہ کی بنیاد پر تیزی سے اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں۔ اگر مقامی سطح پر قیمتوں میں ردوبدل کا عمل سست رہے تو اس کا فائدہ ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور اٹھا سکتے ہیں۔ اسی لیے تجویز دی جا رہی ہے کہ قیمتوں کو روزانہ کی بنیاد پر عالمی مارکیٹ کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تاکہ مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان
سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مسلسل بلند رہیں تو پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق مہنگی پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی وجہ سے پاکستان کے بیرونی شعبے کو تقریباً 12 سے 14 ارب ڈالر تک کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف زرِمبادلہ کے ذخائر کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ ملک کے تجارتی خسارے میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔
دوسری جانب معروف ماہر معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بھی اس بحران کے ممکنہ معاشی اثرات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے نتیجے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ایسی صورتحال میں پاکستان کو سالانہ 2 سے 4 ارب ڈالر تک کی ترسیلات زر میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت پہلے ہی مہنگائی، تجارتی خسارے اور زرِمبادلہ کے محدود ذخائر جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں اگر عالمی تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات براہِ راست عوام تک منتقل ہوں گے۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگے ہونے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔