سپارکو حکام کے مطابق فلکیاتی ڈیٹا کے مطابق شوال کا چاند 19 مارچ 2026 کو صبح 6 بج کر 23 منٹ پر پیدا ہوگا۔ تاہم اسی روز غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 12 گھنٹے 41 منٹ ہوگی، جو عام طور پر چاند کے واضح طور پر نظر آنے کے لیے کافی نہیں سمجھی جاتی۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ چاند کی عمر کم ہونے اور افق پر اس کی پوزیشن مناسب نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے بیشتر علاقوں میں 19 مارچ کی شام چاند دیکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
سپارکو کی رپورٹ کے مطابق فلکیاتی اعتبار سے شوال کا چاند اگلے روز یعنی 20 مارچ کی شام کو زیادہ واضح طور پر نظر آنے کے امکانات ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان میں رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل ہوں گے اور عیدالفطر ہفتہ 21 مارچ 2026 کو منائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ تین روز کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں بارشیں متوقع
دوسری جانب شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 19 مارچ کو اسلام آباد میں طلب کر لیا گیا ہے۔ اس اجلاس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی کریں گے جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے الگ الگ اجلاس بھی منعقد ہوں گے۔ ان اجلاسوں میں ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں اور فلکیاتی معلومات کا جائزہ لے کر حتمی اعلان کیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سپارکو کی فلکیاتی پیش گوئی اہم رہنمائی فراہم کرتی ہے، تاہم پاکستان میں عیدالفطر کا حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے موصول ہونے والی چاند کی رویت کی شہادتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس لیے عیدالفطر کی تاریخ کا حتمی فیصلہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
واضح رہے کہ ہر سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عیدالفطر کی تاریخ کے حوالے سے عوام میں خاصی دلچسپی پائی جاتی ہے۔ شہری چاند رات کے اعلان کے منتظر رہتے ہیں تاکہ خریداری، عید کی تیاریوں اور سفر کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اگر سپارکو کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی تو اس سال پاکستان میں 30 روزوں کے بعد عیدالفطر 21 مارچ بروز ہفتہ کو منائی جائے گی۔