ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ مراد علی شاہ نے ہندو برادری کے لیے 3 اور 4 مارچ کی چھٹی کی منظوری دے دی ہے، دو چھٹیوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ہندو کیلنڈر کے مطابق ہولی کا تہوار ہر سال موسم سرما کے آخری پورے چاند کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ روایتی طور پر یہ تہوار شمالی بھارت کے مختلف علاقوں میں منایا جاتا ہے لیکن یہ عوامی سطح پر مشہور پورے ملک میں ہے۔
ہولی کے تہوار کے موقع پر تمام خوشیاں خاص طرح کے کھانوں سے بھی جڑی ہوتی ہیں، جو اس موقع پر پکائے جاتے یا تیار کیے جاتے ہیں۔ اس تہوار سے ایک دن پہلے عام گھروں میں روایتی طور پر خواتین کشمش اور مختلف خشک میوہ جات کی گریوں کے ساتھ بنائی گئی ایک سویٹ ڈش ‘گجیا‘ تیار کرتی ہیں، جو شوق سے کھائی جاتی ہے۔ ہولی کی دیگر روایتی ڈشوں میں مالپوا اور لڈو کے نام بھی لازمی طور پر لیے جانا چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں: بائیک سمیت تمام گاڑیوں پر ای ٹیگ لگانے کا فیصلہ
ہولی کے تہوار کو عام طور پر ہلکے نشے کے لیے پیے جانے والے اس مشروب کے بغیر نامکمل سمجھاتا ہے، جو بھنگ سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھنگ سے تیار کردہ گاڑھا نشہ آور محلول مختلف مٹھائیوں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بادام اور دودھ سے تیار کیا گیا وہ مشروب بھی بہت پسند کیا جاتا ہے، جس میں بھنگ بہرحال استعمال کی جا تی ہے۔
ہولی کے دن کی خوشی کی تقریبات کا آغاز ایک شام پہلے اس طرح کیا جاتا ہے کہ خاندان کے سبھی افراد یا کئی خاندان مل کر درمیان میں آگ جلا کر خوشیان مناتے اور رقص کرتے ہیں۔ ہولی کے دن سب لوگ مل کر ناشتہ کرتے ہیں اور پھر اہل خانہ اور دوست احباب سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
اس دوران خوشی سے جھومتے گاتے لوگوں سے نعروں کی صورت میں جو ایک بات بار بار سننے کو ملتی ہے وہ ہوتی ہے: ”ہولی ہے، ہولی ہے۔‘‘
ہولی مناتے ہوئے ہر کوئی دوسروں پر طرح طرح کے رنگ پھینکتا ہے۔ لیکن اگر رنگ دستیاب نہ ہو، تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے خوشیاں مناتے ہوئے لوگ ایک دوسرے کو کیچڑ میں پھینک دیتے ہیں۔ بھارت میں ماتھورا کے علاقے میں تو ہولی اس طرح بھی منائی جاتی ہے کہ بہت سی عورتیں تفریحاﹰ ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑے ہنستی مسکراتی دوڑتے بھاگتے مردوں کی پٹائی کرتی نظر آتی ہیں۔
ہولی کے موقع پر لوگ عموماﹰ رقص کرتے ہوئے جو گیت گاتے ہیں، وہ روایتی لوک گیت بھی ہوتے ہیں اور بالی وڈ کی فلموں کے مشہور گانے بھی۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر شہر کے مختلف علاقوں میں مذہبی یا ثقافتی گیت اونچی آواز میں لاؤڈ اسپیکروں پر بجائے جاتے ہیں اور ہر طرف رنگوں، خوشیوں، رقص اور موسیقی کے شورسے عبارت ایسا ماحول نظر آتا ہے کہ کچھ بھی دیکھتے یا سنتے ہی ہر کوئی سمجھ جاتا ہے کہ ہولی منائی جا رہی ہے۔