طارق فضل چودھری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت بھی فراہم کر دی گئی ہے اور حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اسی اصول کے تحت یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ صحت ایک حساس معاملہ ہے جس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، حکومت نے عمران خان کی طبی معائنہ کیلئے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کی صحت کے حوالے سے شفاف اور مستند رائے سامنے آ سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈاکٹرز کا خصوصی پینل آج عمران خان کا معائنہ کریگا
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر بے بنیاد پروپیگنڈا یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرے، حکومت اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے اور اس معاملے کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے قومی سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔
حکومتی فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جبکہ عوام کی نظریں عمران خان کی صحت سے متعلق آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔