پی ٹی آئی کا دھرنا، پارلیمنٹ ہاؤس جانے والے راستے بند
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا پارلیمان کے باہر دھرنا تاحال جاری ہے جس میں پارٹی کے سینئر رہنما اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بھی شریک ہیں۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (سنو نیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا پارلیمان کے باہر دھرنا تاحال جاری ہے جس میں پارٹی کے سینئر رہنما اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بھی شریک ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد کی جانب سے دھرنے کے اعلان کے بعد پارلیمنٹ جانے والے راستوں کو بند کر کے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے قیدی وین اور بکتر بند گاڑی بھی پہنچا دی گئی۔

ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور جانے والا راستہ مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ، پولیس نے کسی بھی شہری اور رکن اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب جانے سے روک دیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور ان کے ہمراہ موجود شفیع جان کو پارلیمنٹ ہاؤس جانے سے روکا گیا جس پر پولیس اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے درمیان تصادم کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان کو گرفتار کیا تاہم بعدازاں انہیں رہا کر دیا گیا، پولیس کے تصادم کے دوران شفیع جان کے کپڑے پھٹ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اڈیالہ سے اسلام آباد جیل منتقلی کا فیصلہ

سہیل آفریدی نے شفیع جان کے خلاف پولیس کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ غنڈہ گردی ہے، انہوں نے اسلام آباد پولیس میں غنڈے بھرتی کیے ہوئے ہیں، پولیس نے والوں نے صوبائی وزیر کا گریبان چاک کر دیا، یہ کیا طریقہ ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے آج جمعہ کے روز سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنے مطالبات کل دھرنے میں سامنے رکھیں گے اور مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ کہ مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں خدانخواستہ کچھ غلط ہوا تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔