خاندانی ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ تین روز سے دل کے عارضے کے باعث نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے، تاہم طبیعت زیادہ خراب ہونے کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ آج شام نمازِ مغرب کے بعد لاہور کے علاقے لارنس روڈ پر ادا کی جائے گی، جس میں سیاسی، سماجی اور عوامی شخصیات کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی مختلف سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
ذہن نشین رہے کہ زعیم قادری کا شمار ملک کے متحرک اور واضح مؤقف رکھنے والے سیاستدانوں میں ہوتا تھا۔ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سے وابستہ رہے اور پنجاب اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے عوامی مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کرتے رہے۔ ان کی گفتگو، سیاسی بصیرت اور عوامی رابطہ مہم نے انہیں عوام میں خاص مقام دلایا۔
یہ بھی پڑھیں:معروف نعت خواں تابندہ لاری انتقال کر گئیں
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زعیم قادری نہ صرف ایک سرگرم سیاستدان تھے بلکہ ایک بااصول اور بے باک آواز کے طور پر بھی پہچانے جاتے تھے۔
مرحوم کے اہل خانہ، دوستوں اور چاہنے والوں نے عوام سے ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کیلئے دعا کی اپیل کی ہے۔