تفصیلات کے مطابق سیکورٹی فورسز اور پولیس کے 10 شہداء کے علاوہ فتنہ الہندوستان کے ان انسان نما بھیڑیوں نے گوادر میں خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ مزدور خاندان کے 5 افراد کو بھی شہید کر دیاجن میں ایک خاتون کے علاوہ 3 بچے بھی شامل ہیں۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز کی طرف سے مزید تعاقبی آپریشنز اور فضائی نگرانی جاری ہے۔ ان دہشت گردانہ کاروائیوں کے دوران ہندوستانی میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنہ الہندوستان کی مکمل سپورٹ دونوں کے گٹھ جوڑ کو مزید واضح کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کا صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے کمی کا اعلان
وزیر اعظم شہباز شریف نے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان کے امن کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کو بری طرح ناکام بنانے اور دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملانے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر میں 12 مقامات پر فتنہ الہندوستان کے منظم حملوں کو ناکام بنانے اور دھشتگردوں کو جہنم رسید کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہداء پر فخر ہے، سیکورٹی فورسز کے افسران و جوان اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ارض وطن کی حفاظت میں مصروف عمل ہیں، دہشتگردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، ارض وطن کی حفاظت کے غیر متزلزل عزم میں مجھ سمیت پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ گزشتہ 12 ماہ میں بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے 700 سے زائد دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا، صرف گزشتہ دو روز میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 70 کے قریب دہشت گرد مارے گئے، آج علی الصبح فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پولیس اور ایف سی کے جانباز جوانوں نے مل کر دہشت گردوں کے تمام حملے ناکام بنا دیے، سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں میں اب تک 58 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، یہ بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، ریاست آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی، کارروائیاں جاری رہیں گی۔