ان کے انتقال کی خبر نے جماعتی حلقوں اور قانونی برادری میں گہرے رنج و غم کی فضا پیدا کر دی ہے۔ مرحوم کی نماز جنازہ پشاور میں واقع مفتی محمود مرکز میں ادا کی گئی، جس میں علما، سیاسی رہنماؤں، وکلا اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے جنوبی افریقہ سے جاری تعزیتی پیغام میں جلال الدین ایڈووکیٹ کے انتقال پر دلی افسوس اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ان کے دیرینہ رفیق اور نہایت قابلِ اعتماد ساتھی تھے، جنہوں نے ہر ذمہ داری کو دیانت، حکمت اور اخلاص کے ساتھ نبھایا۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ جلال الدین ایڈووکیٹ کی جدائی نہ صرف جماعت بلکہ ان کیلئے ذاتی طور پر بھی ایک بڑا صدمہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ایک مخلص، باصلاحیت اور متحرک رہنما سے محروم ہو گئی ہے، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی صحت پر پمز ہسپتال کی انتظامیہ کا بیان آگیا
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے قائم مقام امیر مولانا محمد صفی اللہ، سیکرٹری جنرل حافظ نصیر احمد احرار، نائب امرا اور صوبائی ترجمان نے بھی جلال الدین ایڈووکیٹ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
تعزیتی پیغام میں کہا گیا کہ مرحوم نے جمعیت علمائے اسلام کیلئے سیاسی، بین الاقوامی تعلقات اور سفارتی میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دیں، جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔