اسی تسلسل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف ممالک کے سربراہان کو دعوت نامے ارسال کیے ہیں تاکہ وہ اس مجوزہ پیس آف بورڈ کا حصہ بنیں اور جنگ بندی کے بعد استحکام، امدادی رسائی، بنیادی سہولیات کی بحالی اور طویل المدتی سیاسی حل کی سمت میں مشترکہ کوششوں میں شریک ہوں۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کو بھی اس مجوزہ بورڈ میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے، یہ خبر نا صرف انتہائی مثبت اور باوقار ہے بلکہ ایک کامیاب سفارتی پیش رفت بھی ہے، وزیراعظمِ پاکستان کو ایسے عالمی پلیٹ فارم کے لیے دعوت ملنا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ، سفارتی وزن اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ کامیابی تسلسل کے ساتھ کی گئی ریاستی سفارتکاری، بروقت رابطہ کاری اور قومی مفادات کے مطابق مؤثر حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے جس میں سول ڈپلومیسی کے ساتھ ساتھ ملٹری ڈپلومیسی کی مربوط کاوشیں بھی شامل ہیں، دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار، بالغ نظر اور حل کی طرف لے جانے والے فریق کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی وزیراعظم کو غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت
پاکستان کی پیس آف بورڈ میں شرکت یا مثبت ردِعمل کی بنیاد کسی کیمپ کی سیاست نہیں بلکہ فلسطینی عوام خصوصاً غزہ کے بے گناہ اور نہتے شہریوں پر ہونے والے مظالم کی تکالیف کم کرنے اور ایک منصفانہ و پائیدار حل کی عملی حمایت ہے۔
پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کے حقِ خود ارادیت، شہریوں کے تحفظ، فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد اور تعمیرِ نو کی حمایت کرتا آیا ہے، اس تناظر میں یہ دعوت پاکستان کو موقع دیتی ہے کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی کردار ادا کرے۔
پاکستان بین الاقوامی فورمز پر غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر آواز بلند کرے اور ایسے فیصلوں میں اپنا اصولی مؤقف شامل کرے جو براہِ راست فلسطینیوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
اس کو بھی پڑھیں: ماریہ ماچاڈو نے اپنا نوبل امن میڈل ٹرمپ کے حوالے کر دیا
حکومت پاکستان / وزیر اعظم کی اس اہم بورڈ میں شرکت امتِ مسلمہ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے اور مشترکہ انسانی و اسلامی ذمہ داری نبھانے کا موقع فراہم کرتی ہے، ہم فلسطین کے معاملے میں نہ تماشائی ہیں، نہ خاموش، بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے مظلوم کی مدد، انسانی ہمدردی، اور انصاف پر مبنی سیاسی حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
تجزیہ کار یہ نقطہ بھی اٹھائیں کہ عالمی میکنزمز میں موجودگی پاکستان کو اہم نتائج اثرانداز ہونے کا موقع دیتی ہے تاکہ فیصلے یکطرفہ نہ ہوں بلکہ فلسطینی مفادات کا تحفظ ہو، امداد اور بحالی کے اقدامات شفاف اور منصفانہ رہیں اور مسلم ممالک کے ساتھ مربوط مؤقف مضبوط ہو۔
مجموعی طور پر یہ دعوت پاکستان کے لیے اعزاز، اعتماد اور ذمہ داری ہے اور پاکستان اسے انسانیت، امت اور انصاف کے بڑے مقصد کے لیے مثبت کردار میں ڈھالے گا۔