تقریب میں نک دا کوکا گانانے پر قوال فراز خان کے خلاف مقدمہ انچارج شالیمار باغ ضمیر الحسن ولد تنویر الحسن کی مدعیت میں تھانہ باغبانپورہ میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق لاہور میں والڈ سٹی کی جانب سے شالیمار باغ میں کلچرل نائٹ کا اہتمام کیا گیا تھا، یہ تقریب ہفتہ کی شام چاندنی راتوں کے نام سے منعقد ہوتی ہے جس میں کسی بھی قسم کی سیاسی نعرے بازے یا سیاسی مواد کی اجازت نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: فلم دھریندر کے ڈائریکٹر کیخلاف مقدمہ درج کرنیکی درخواست مسترد
متن میں لکھا گیا کہ تقریب کے دوران قوال فراز خان نے نک دا کوکا گانا گایا ،گانے کے بول میں اڈیالہ جیل کے قیدی نمبر 804 کا ذکر کیا گیا، تقریب میں قوال فراز خان اور اس کے ساتھی قوالوں نے بغیر اجازت یہ گانا گایا ، گانے کے نتیجے میں عوام میں اشتعال پیدا ہوا جسے انتظامیہ نے کنٹرول کیا ۔
ایف آئی آر میں لکھا گیا کہ قوالوں کے اس اقدام سے تقریب کا غیر سیاسی اور ثقافتی مقصد سبوتاژ ہوا، قوالوں نے سرکاری ادارے کی ساکھ اور غیر جانبداری کو نقصان پہنچایا، قوال فراز خان کا یہ فعل انتہائی غیر ذمہ دارانہ، قابل مذمت اور قانونی حدود سے تجاوز کے مترادف ہے۔
اس کو بھی پڑھیں: بھارتی فلم بیٹل آف گلوان پر چین کا شدید ردعمل
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ قوال فراز خان کا یہ عمل عوام کو اشتعال دلانے، عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے اور ریاستی ادارے کو متنازع بنانے کی کوشش ہے اور قابل تعزیر جرم ہے۔
پولیس نے تھانہ باغبانپورہ میں مقدمہ درج کر کے اس حوالے سے مزید کارروائی شروع کر دی، پولیس کے مطابق واقعہ کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جارہا ہے۔
لاہور: سرکاری تقریب میں قیدی نمبر 804 سے منسوب گانا گانے پر قوال کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج pic.twitter.com/oHzcRnYrug
— Bilal khokhar (@Bilalkh1994) January 4, 2026
دوسری جانب قوال فراز خان نے مؤقف اپنایا کہ انہوں نے فرمائش پر گانا گایا لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔