تازہ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 1.32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس اضافے کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے، جس نے عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اسی تناظر میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں بھی 1.18 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
دوسری جانب مربان کروڈ کی قیمت بھی بڑھ کر 106 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں یکساں اضافہ ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور مہنگائی پر پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پلاٹ مالکان کیلئے نئی پالیسی منظور
توانائی ماہرین کے مطابق تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ترقی پذیر ممالک کیلئے چیلنج بن سکتی ہیں، جہاں پہلے ہی مہنگائی کا دباؤ موجود ہے۔
اس صورتحال میں حکومتوں کو متبادل توانائی ذرائع اور معاشی حکمت عملیوں پر توجہ دینا ہوگی تاکہ ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔