وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی صورتحال کے باعث حکومت مشکل اور ذمہ دارانہ فیصلے لے رہی ہے، اس وقت قوم کو اشد اتحاد کی ضرورت ہے، خلیجی جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں بھونچال ہے، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج عالمی منڈی میں خام تیل 250 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے، چند ہفتوں سے خلیجی جنگ کا معاملہ بگڑتا چلا جا رہا ہے، موجودہ صورتحال کے تناظر میں حکومت کفایت شعاری پالیسی پر عمل کر رہی ہے، 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے، حکومت نے کفایت شعاری اور اخراجات میں کٹوتی کر کے عوام پر بوجھ نہیں پڑنے دیا۔
وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ اب حکومت نے عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لٹر کا اضافہ کر دیا گیا، نرخوں میں اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 184 روپے 49 پیسے فی لٹر اضافہ کے بعد 520 روپے 35 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
.jpg)
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے وفاقی حکومت 129 ارب روپے خرچ کر چکی ہے، فیصلہ کیا گیا کہ سبسڈی سے ہٹ کر کمزور طبقات کو ریلیف دیا جائے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر گزشتہ چار ہفتوں سے کمیٹی کام کررہی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہمسایہ ممالک سمیت دیگر ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں، ملکی قیادت کی مشاورت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک میں کھاد اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جائے گی، دو ویلر موٹرسائیکل پر 100 روپے فی لٹر سبسڈی دی جائے گی، 3 ماہ کے لیے موٹر سائیکل والوں کو ماہانہ 20 لیٹر پٹرول 100 روپے فی لیٹر سستا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت ملک کی جی ڈی پی کا اہم حصہ ہے، چھوٹے کاشتکاروں کیلئے 1500 روپے فی ایکڑ سبسڈی دے رہے ہیں ۔