سونے کی قیمتوں میں اچانک حیران کن کمی
سونا اور چاندی کی قیمتیں
ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں مزید 25 ہزار 500 روپے کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی/ فائل فوٹو
(سنو نیوز) سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تاریخی کمی کا سلسلہ جاری ہے، جس نے مقامی اور عالمی منڈیوں میں سرمایہ کاروں، تاجروں اور عام خریداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں مزید 25 ہزار 500 روپے کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد سونے کی نئی فی تولہ قیمت 5 لاکھ 11 ہزار 862 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔ اس نمایاں کمی کو حالیہ برسوں کی سب سے بڑی گراوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں شدید دباؤ اس کمی کی بڑی وجہ ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 255 ڈالر کی نمایاں کمی ہوئی ہے، جس کے بعد عالمی قیمت 4 ہزار 895 ڈالر فی اونس پر آ گئی ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اس اچانک کمی کے اثرات براہِ راست پاکستانی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جہاں درآمدی لاگت اور عالمی نرخوں سے قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تاریخی بلندیوں کو چھونے کے بعد سونے کی قیمت میں ریکارڈ کمی

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، امریکی ڈالر کی پوزیشن، سود کی شرحوں سے متعلق توقعات اور سرمایہ کاروں کا محفوظ اثاثوں سے وقتی طور پر فاصلہ اختیار کرنا، سونے کی قیمتوں میں کمی کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس وقت اسٹاک مارکیٹس اور دیگر متبادل سرمایہ کاری کی جانب رجحان دکھا رہے ہیں، جس کے باعث قیمتی دھاتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔

سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چاندی کی فی تولہ قیمت میں 2 ہزار 63 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد چاندی کی نئی قیمت 9 ہزار 6 روپے فی تولہ ہو گئی ہے۔ چاندی کی قیمت میں کمی کو بھی عالمی رجحانات اور صنعتی طلب میں کمی سے جوڑا جا رہا ہے۔

بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس بڑی کمی کے بعد زیورات کے خریداروں کی دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے، تاہم عمومی معاشی حالات اور مہنگائی کے باعث فوری طور پر بڑی خریداری کا امکان محدود دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور مزید کمی یا استحکام کا انتظار کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم طویل المدتی بنیادوں پر سونا اب بھی ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو جلد بازی کے بجائے محتاط فیصلے کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔