Homeتازہ ترینجسم میں خون کی کمی،علامات کیا ہیں؟

جسم میں خون کی کمی،علامات کیا ہیں؟

جسم میں خون کی کمی

جسم میں خون کی کمی،علامات کیا ہیں؟

لاہور:(ویب ڈیسک) خون کی کمی کا مسئلہ دنیا بھر کے کروڑوں افراد میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں کوئی نہ کوئی بیماری ہوتی ہے لیکن جسم میں خون کی کمی کیوجہ چندعلامات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ خون کی کمی ہے یا نہیں۔

جسم میں اچھی صحت کیلئے خون کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اگر جسم میں خون کی کمی ہو جائے تو صحت متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

خون کی کمی کو طبی زبان میں انیمیا کہا جاتا ہے جسکی کئی اقسام ہیں مگر سب سے عام قسم جسم میں آئرن کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہے، زیادہ تر افراد کو انیمیا کا سامنا جسم میں آئرن کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے، اسی طرح وٹامن بی 12 کی کمی سے بھی جسم انیمیا میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

جسم کو آئرن کی ضرورت ایک پروٹین ہیموگلوبن بنانے کیلئے بھی ہوتی ہے جو خون کے سرخ خلیات کو آکسیجن لیجانے میں مدد فراہم کرتا ہے، خون کے سرخ خلیات انسانی جسم میں آکسیجن کو پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔

انسانی جسم کے ہر حصے کو اپنے اعضا کو بہتر طریقے سے چلانے کیلئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اور خون میں آکسیجن کی ناکافی مقدار ہونے کی وجہ سے مختلف علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انیمیا سے متاثر ہونے کا اشارہ دینے والی چند درج ذیل علامات ہیں۔

سانس کا پھول جانا

آئرن کی کمی کیوجہ سے ہماراسارا جسم ہیموگلوبن نہیں بناتا جو خون کے سرخ خلیات کے لیے ضروری ہوتا ہے، ہیموگلوبن کی بدولت آکسیجن کو خون کے خلیات سے جڑنے کا موقع مل جاتا ہے جسے وہ جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں۔

جسم میں آئرن کی کمی کے باعث جسم کے مختلف حصوں کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں ملتی جسکے نتیجے میں جسمانی سرگرمیوں کے دوران سانس پھول جاتا ہے، اگر عام جسمانی سرگرمیوں کے دوران سانس پھول جائے تو یہ خون کی کمی کی نشانی ہوتی ہے۔

ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرنا

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر وقت تھکاوٹ کا احساس ہونا بھی خون کی کمی کی سب سے بڑی علامت ہوتی ہے، کچھ کو ہر وقت سستی ہوتی ہے اور کچھ کو کام کرتے ہوئے تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے، جسم میں آئرن یا وٹامن بی 12 کی کمی اس تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔

جِلد کی رنگت کا زرد ہونا

انسانی جسم میں جِلد کی سطح کے نیچے خون کے خلیات موجود ہوتے ہیں اور اگر ان خلیات کی مقدار کم ہو جائے تو انسانی جسم کی جِلد تک مناسب مقدار میں خون نہیں پہنچتا جسکے باعث جِلد کی رنگت زرد ہونے لگتی ہے، ماہرین نے بتایا ہے کہ یہ بھی خون کی کمی کی ایک بہت بڑی علامت ہے، درحقیقت ہتھیلی یا ناخنوں سے جھلکنے والی زردی سے بھی انیمیا کا عندیہ ملتا ہے۔

سینے میں تکلیف

جب جسم میں خون کے صحت مند سرخ خلیات کی تعداد کم ہو جائے تو دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے جسکے نتیجے میں سینے میں کافی تکلیف کا احساس ہو تا ہے جو جسم میں خون کی کمی کی ایک علامت ہے، سینے میں درد کا مسلسل ہونا انسانی صحت کیلئے بہت بڑا خطرہ لاتا ہے۔

ہاتھ پائوں کا ٹھنڈا ہو جا نا

اگر انیمیا آئرن کی کمی کا نتیجہ ہو تو انسانی جسم کے اعضا ہاتھ اور پائوں ہر وقت ٹھنڈے محسوس ہوتے ہیں، جب جسم میں خون کے سرخ خلیات کی کمی ہوتی ہے تو ہمارا جسم دل، دماغ اور گردوں وغیرہ کے لیے خون کی فراہمی کو ترجیح دیتا ہے۔

مسلسل سر درد

نیند کی کمی، تناؤ یا کسی بیماری کے باعث کبھی کبھار سر درد کا سامنا ہر فرد کو ہوتا ہے مگر جب سر درد زندگی کا حصہ ہی بن جائے تو بہتر ہے کہ جسم میں آئرن کی سطح کا ٹیسٹ کروالیا جائے تاکہ پتہ چل جائے کہ جسم میں آئرن کی کتنی مقدار ہے،طبی ماہرین کے مطابق خون کے سرخ خلیات کی کمی کی وجہ سے ہمارا جسم دماغ کیلئے خون کا بہاؤ بڑھا دیتا ہے جس سے سر درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دل کی دھڑکن کا تیز ہونا

آئرن کی کمی کے باعث لاحق ہونیوالے انیمیا کی ایک بڑی علامت دل کی دھڑکن کا بے ترتیب اور تیز ہونا ہے، خون کی کمی کے شکار افراد میں ہیموگلوبن کی سطح کم ہو جاتی ہے جسکے باعث دل کو جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچانے میں سخت محنت کرنا پڑتی ہے اور دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جاتی ہے یا وہ بے ترتیب ہو جاتی ہے۔

سر کا مسلسل چکرانا

سر چکرانا بھی خون کی کمی کی ایک بڑی علامت ہے، جسم میں خون کے صحت مند سرخ خلیات کی تعداد کم جائیں تو دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، اسکے نتیجے میں اکثر سر چکرانے کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔

چڑچڑا پن

اگر آپ اچانک بہت زیادہ چڑچڑے ہوگئے ہیں یا غصہ جلد آنے لگا ہے تو یہ بھی خون کی کمی کی علامت ہو سکتی ہے،طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تو واضح نہیں کہ انیمیا کے مریض چڑچڑے کیوں ہوتے ہیں، مگر ممکنہ طور پر جسم میں آکسیجن کی کمی اس میں کردار ادا کرتی ہے۔

منہ میں چھالے ہونا

منہ میں چھالے نکلنا، زبان اور منہ پر دانوں کا بن جانا بھی جسم میں آئرن کی کمی بارے کافی کچھ بتاتا ہے، اسی وجہ سے جسم میں خون کی کمی ہوتی ہے، اگر اکثر منہ میں چھالوں کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو یہ بھی جسم میں آئرن کی کمی کی نشانی ہو سکتی ہے۔

بالوں کا گرنا

آئرن بالوں کیلئے بہت اہم ہوتا ہے اور اسکی کمی کے نتیجے میں بال تیزی سے گرنے لگتے ہیں، یہ زیادہ عام علامت نہیں مگر اوپر درج علامات بھی ساتھ میں نظر آئیں تو یہ انیمیا کی نشانی ہوسکتی ہے۔

Share With:
Rate This Article