Homeپاکستاناپرچترال:ایک اور چئیر لفٹ (ڈولی) پھنس گئی، ریسکیو نے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا

اپرچترال:ایک اور چئیر لفٹ (ڈولی) پھنس گئی، ریسکیو نے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا

اپرچترال:ایک اور چئیر لفٹ (ڈولی) پھنس گئی، ریسکیو نے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا

اپر چترال: (سنو نیوز) ریسکیو1122 نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دریائے چترال پر چئیر لفٹ (ڈولی) میں پھنسے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا۔

ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی نے کہا کہ کوراغ کے مقام پر دریائے چترال پر قائم چئیر لفٹ میں 3 افراد کے پھنسنے ہونے کی اطلاع پر ریسکیو 1122 ڈیزاسٹر ٹیم موقع پر پہنچی، جہاں انہوں نے پیشہ وارنہ طریقے سے امدادی سرگرمیاں شروع کیں۔

بلال احمد فیضی کا کہنا تھا کہ ریسکیو1122 اہلکار ٹوٹی ہوئی رسی پر رنگ کی مدد ریپیلنگ کرتے ہوئے ڈولی تک پہنچا، ڈیزاسٹر اہلکار نے ڈولی کو صحیح کرتے ہوئے رسی سے باندھ دیا۔


ترجمان ریسکیو نے بتایا کہ ریسکیو اہلکار واپس ریپیلنگ کرتے ہوئے کنارے پر پہنچا اور ڈولی کو کھینچ کر کنارے پر منتقل کر دیا، ریسکیو 1122 نے تمام پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکال لیا۔

بلال احمد فیضی کا کہنا ہے کہ تینوں افراد گہکیر کی جانب سے بونی آ رہے تھے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ رسی ٹوٹنے کی وجہ سے پیش آیا، ریسکیو 1122 کا آپریشن 45 منٹ تک جاری رہا۔

خیال رہے چند روز قبل خیبر پختونخوا کے علاقے بٹگرام میں پاشتو کے مقام پر چیئرلفٹ میں پھنسے تمام 8 افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا گیا۔ چیئر لفٹ میں پھنسے افراد کو بچانے کیلئے پاک آرمی کے اسپیشل سروسزگروپ کی سلنگ آپریشن میں ماہر ٹیم نے حصہ لیا تھا۔

واضح رہے دور دراز علاقوں بالخصوص خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات میں مقامی افراد آمد و رفت کے لیے کیبل کار کی طرز پر بنائی گئی دیسی ساختہ لفٹ استعمال کرتے ہیں جنھیں عمومی طور پر پیٹرول یا ڈیزل انجن کی مدد سے آپریٹ کیا جاتا ہے۔

اس دیسی ساختہ کیبل کار کو ’ڈولی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کے ایسے دشوار گزار علاقوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں مناسب ذرائع آمد و رفت جیسا کہ سٹرکیں یا پُل موجود نہیں ہوتے۔
پہاڑی علاقوں میں چونکہ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کے درمیان آبی گزرگاہیں موجود ہوتی ہیں یا بعض اوقات ایک گاؤں ایک پہاڑ پر جبکہ نزدیک ترین گاؤں دوسرے پہاڑ پر موجود ہوتا ہے، اس لیے وقت کی بچت کے لیے مقامی افراد عموماً ڈولی کو ہی آمد و رفت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مسافت زیادہ نہ ہو تو عموماً ہاتھ کی مدد سے بھی ڈولی کو چلا لیا جاتا ہے، مگر زیادہ اونچائی اور زیادہ مسافت والی ڈولیاں پرانے انجن کی مدد سے چلائی جاتی ہیں۔

ڈولی عمومی طور پر کسی بھی پرانی اور ناکارہ گاڑی کے ڈھانچے میں مناسب تبدیلیاں کر کے بنائی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسے آپریٹ کرنے کے لیے عمومی طور پر علاقے کے ڈپٹی کمشنر سے تحریری اجازت نامہ لیا جاتا ہے۔ مقامی افراد عمومی طور اپنی آمد و رفت کے حساب سے آپریٹر کے ساتھ ماہانہ کرایہ طے کر لیتے ہیں جو ادا کیا جاتا ہے۔

Share With:
Rate This Article