Homecolumnمہنگی بجلی اورخونی انقلاب

مہنگی بجلی اورخونی انقلاب

جبار چودھری

مہنگی بجلی اورخونی انقلاب

تحریر: جبار چودھری

پاکستان میں بجلی بہت مہنگی ہوگئی ہے۔ اتنی مہنگی کہ اب بل دیتے وقت تکلیف ہوتی ہے۔ اس مہنگی بجلی کی وجوہات بہت زیادہ ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ کہ بجلی کی پیداوار پانی سے کم اورامپورٹڈ فیول پر زیادہ ہے۔ پھر بجلی گھروں کی کیپسٹی پیمنٹس الگ بڑا مسئلہ۔ ویسے تو دنیا کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس کا حل موجود نہ ہو، ہاں حل نکالنے والے اگر بدنیت نہ ہوں تو سب کچھ ممکن ہے۔’

میں بجلی کو اوقات میں واپس لانے کی کچھ تجاویز کا ذکر کروں گا لیکن پہلے اس مہنگی بجلی سے ملک میں بننے والے حالات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں موجود کچھ افراد، صاحب الرائے دانشورو ں کا خیال اور زیادہ لوگوں کی خواہش کہ بڑھتی مہنگائی اور انرجی کی بڑھتی اور ناقابل برداشت قیمتوں سے عوام میں جو بے چینی پیدا ہو رہی ہے وہ ملک میں طوائف الملوکی کو جنم دے گی۔

حالات ایک خونی قسم کے انقلاب کی طرف بڑھیں گے اور اس ملک کے وسائل پر قابض دو فیصد لوگوں کی طاقت پر گرفت ناصرف کمزور بلکہ ختم ہو جائے گی۔ وہ لوگ یا تو مارے جائیں گے یا اس ملک سے بھاگ جائیں گے اور اس انقلاب کے بعد جوکچھ بچے گا وہ اصل پاکستان ہوگا اور یہی اس ملک کا اصل مقدر ہوگا۔

یہ نقشہ کس قدر قابل وقوع ہے، اس پر بحث ہی ہو سکتی ہے۔  فی الحال لیکن ایک چیز طے ہے کہ  ایسے خونی انقلاب لانا شاید کافی آسان لیکن ان کو سنبھالنا، ان کے بعد اور ان کے ساتھ زندہ رہنا انتہائی کٹھن ہے۔ لانا اس لیے آسان کہ انسانی جبلت میں ودیعت کردہ نفرت ایسا مادہ ہے جو انسان سے بڑے سے بڑا کام کروا سکتا ہے اور ایسے انقلاب کی بنیاد کسی محبت پر نہیں بلکہ نفرت پر ہی رکھی  جاتی ہے۔

اور آج کل جو بجلی کے بلوں  کے نتیجے میں جو سڑکوں پر ہو رہا ہے، اس سے عوام کی امیروں اور اشرافیہ سے نفرت ہی جنم لے رہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگوں کو اپنے زیادہ بل دیکھ کر مفت بجلی پانے والوں پر غصہ آ رہا ہے اور ملک میں واپڈا ملازمین اور باقی مراعات یافتہ سول، ملٹری بیوروکریسی اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی مفت بجلی ختم کرنے کی مہم شروع ہے۔ میری اپنی رائے میں جب ملک مشکل میں ہو تو اس میں عوام سے لے کر حکمرانوں تک ہر کسی کو وہ مشکل بانٹنی چاہیے اس سے نفرت کی جگہ محبت بڑھتی ہے اور بحران اگر جلد ختم نہ بھی ہو پھر بھی دوسرے پر غصہ گلہ نہیں رہتا۔

پاکستان میں ”عرب اسپرنگ“ جیسے حالات جنم لے سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ ایک الگ بحث ہے اور اس کے حق اور مخالفت میں اپنے اپنے دلائل ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس ملک کا سسٹم بنانے والوں نے اس کو قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی اٹھا رکھی ہے اور ذمہ داری یہ ہے کہ نہ اس سسٹم کو ٹوٹنے دینا ہے اور نہ ہی ایسا بننے دینا ہے کہ یہ سسٹم ڈیلیور کرنا شروع کردے۔ یہ ذمہ داری بہت باریک واردات ہے جو اب تو چلی آ رہی ہے لیکن اب اس سپر کلاس کے زوال کی پیش گوئیاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے اور جو بھی ہو اس کے اچھے کے لیے ہو۔

اب آتے ہیں بجلی کی طرف۔ مہنگائی تو ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کا کوئی حل ہے؟ کیونکہ بجلی اپنی اوقات سے باہر اس لیے بھی ہے کہ ہمارے ملک میں بجلی کی چوری آسان بھی ہے اور ہمارا مشغلہ بھی کہ سرکار کے زیر انتظام ہے اور سرکار کو لوٹنا ہمیں شاید کچھ زیادہ برا بھی نہیں لگتا۔ اس وقت ڈھائی سو ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔

فاٹا سمیت خیبر پختونخواکے اکثر علاقوں کے لوگ بجلی کے بل نہیں دیتے جو ایک قسم کی چوری بلکہ سینہ زوری ہی ہے۔ یہ پیسے بھی بجلی کے بل دینے والوں کے کھاتے میں پڑ جاتے ہیں یا گردشی قرضہ بن جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پورے پاکستان میں سرکاری مراعات یافتہ افسروں کو جو بجلی کی مفت سہولت حاصل ہے، اس کا بل ویسے تو سرکار کے ذمہ ہوتا ہے لیکن سرکار کے محکمے کس قدر نادہندہ ہیں یہ اعدادوشمار ہوش ربا ہیں۔

جب ریکوری نہیں ہوتی تو وہ پیسے بھی کسی نہ کسی صورت مہنگی بجلی کو جنم دیتے ہیں۔ بجلی سستی کرنے کا بہترین طریقہ تو بجلی کی پیداوار کو سستا بنانا ہے لیکن وہ تو نہ اتنی آسانی سے ہو سکتا ہے اور نہ جلدی سے۔ بجلی کی چوری کو روک کر گردشی قرضہ کم کرنا اور ملک میں کسی کے لیے بھی فری بجلی چاہے وہ واپڈا کا ایک لائن مین یا میٹر ریڈر ہو یا اس ملک کا صدر اور وزیراعظم ہو، مفت بجلی کی سہولت ختم کرنا ہے۔

بجلی چوری کی روک تھام کے لیے اسمارٹ اور پری پیڈ میٹرز لگانے سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ اس سے ایک  تو ریکوری سو فیصد ہوسکتی ہے اور دوسرا بل دینے والوں کے لیے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم پری پیڈ موبائل استعمال کرتے ہیں۔ فرق یہ ہوگا کہ موبائل کا کارڈ ڈلوائے بغیر”ان کمنگ“کی سہولت رہتی ہے لیکن بجلی کے میٹر میں کارڈ ڈلوائے بغیر بجلی کی سہولت نہیں ملے گی۔

اب ملین ڈالر سوال یہ کہ اسمارٹ میٹر کیوں نہیں لگتے یا ان کو لگنے نہیں دیا جاتا۔ پاکستان میں دو ہزار آٹھ نو کے بعد سے اس پر کام کئی بار شروع ہوا لیکن کچھ ہو نہیں ہوسکا۔ آپ گوگل کریں گے تو آپ کو مختلف ادوار کی خبریں اس پراجیکٹ بارے مل جائیں گی۔ آخری مرتبہ اس پر کام پی ٹی آئی کے دور میں بالکل ٹھپ کر دیا گیا بلکہ اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے افسروں کو سزا کے طور پر جرمانے بھی کیے گئے۔ ان پر قومی خزانہ ضائع کرنے کا الزام لگایا گیا۔

میرے ایک سورس نے مجھے خبر دی کہ پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے دور میں اس پراجیکٹ پر کام شروع ہوا اور لیسکو اور آئیسکو کو تجرباتی پراجیکٹ کے لیے چنا گیا۔ ٹینڈر ہوا تو اس وقت کے وزیر پانی وبجلی حالیہ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے پراجیکٹ کرنے والی فرم سے بائیس کروڑ روپے ایڈوانس جمع کرانے کی شرط عائد کی۔ جس پر کمپنی نے کہا کہ ہمیں پراجیکٹ شروع نہ ہونے پر یہ رقم بحفاظت واپسی کی گارنٹی دی جائے لیکن ایسا نہ ہونے پر کام بند ہوگیا۔

اس کے بعد ن لیگ کی حکومت آئی تو اسحاق ڈار نے لاہور کی ایک میٹر بنانے والی فرم کو میٹر بنانے کا پراجیکٹ دیا۔سارے معاملات خود طے کیے لیکن سورس کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس وقت کے وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف سے بات کی تو خواجہ آصف نے اس پراجیکٹ میں مبینہ طور پر اپنا ”حصہ“ نہ ہونے کی بنا کر انکار کردیا۔ یہ سورس کی انفارمیشن ہے خواجہ صاحب وضاحت یا تردید کرنے میں آزاد ہیں۔

نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد خاقان عباسی کے دور میں ایک بار پھر اس پراجیکٹ کے ٹینڈر ہوئے اس بار یو ایس ایڈ اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک اس کام کے لیے قرضہ دینے پر بھی راضی ہوا۔ پھر وہی لیسکو اور آئیسکو میں تجرباتی پراجیکٹ کا فیصلہ ہوا لیکن اسی طرح کے ”حصوں“ میں یہ پراجیکٹ پھنس کر تنازعات کا شکار ہوتا رہا۔

اس وقت کے وزیر پانی وبجلی اویس لغاری نے اس پراجیکٹ کو بند کرا دیا۔ پی ٹی آئی کے دور میں بھی کام کا آغاز ہوا لیکن انجام وہی ہوا۔ جب عمران خان نے تابش گوہر کو مشیر بنایا تو انہوں نے ایک تجویز دی جو اس حوالے سے بہترین تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کو ابتدائی طور پر لاہور اسلام آباد کی بجائے پشاور میں کیا جائے کیونکہ ریکوری اور بجلی چوری کے مسائل تو وہاں ہیں لیکن عمر ایوب نے اس کی مخالفت کی اور یوں یہ کام آج بھی پی سی ون سے آگے بڑھ ہی نہیں سکا۔

وجہ سب جانتے ہیں کہ کرپشن ختم کردی تو کرپشن سے فیض پانے والے بھی ختم ہو جائیں گے لیکن ان کی اس سسٹم کو ضرورت ہے۔ یہاں انسان کام کریں گے وہاں لالچ اور ہوس ہوگی اور یہی کرپشن کی وجہ بنتی ہے۔ اس لیے کرپشن ختم کرنی ہے تو اس کا ڈھول بنا کر پیٹنے اور نیب سے سزائیں یا کیسز بنانے کی بجائے تمام تر وسائل حکومتی سسٹم کو ڈیجیٹل کرنے میں لگا دیں۔

یہاں انسانوں کا عمل ختم یا کم ہوجائے گا ان سیکٹرز میں اسی رفتار سے کرپشن بھی کم ہوتی چلی جائے گی۔ مہنگی بجلی کو سستا یا کم از کم قابل برداشت حد تک رکھنے کے لیے سسٹم کو ڈیجیٹل کرنا پڑے گا۔ بجلی کی تقسیم کمپنیوں کی ”صفائی“ کرنی پڑے گی۔ بجلی کی تقسیم میں مزید کمپنیوں کو لانا ہوگا تاکہ مناپلی کی بجائے مقابلے کی فضا بنے۔ اس کا تجربہ ہم کرچکے ہیں۔

آج پی ٹی سی ایل کو مجبوری میں اپنے کسمٹرز کا خیال رکھنا پڑتا ہے کیونکہ کسٹمر کے پاس دوسرے فون اور انٹرنیٹ سسٹم کی آپشن موجود ہے۔ بجلی بلوں میں اضافے کا ایشو بلوں میں شامل ٹیکسوں کو آگے پیچھے کرنے، گرمیوں کے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کو سردیوں میں منتقل کرنے سے حل نہیں ہوگا۔ اس بار اگر عوام تکلیف کا اظہار کر رہے ہیں تو اس کو کرائسسز کی بجائے ایک موقع میں تبدیل کریں اور بجلی کے سسٹم میں بنیادی اصلاحات کا آغازکریں ورنہ پھر خونی انقلاب لانا تو شاید آسان ہولیکن سنبھالنا اور اس کے ساتھ رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

Share With:
Rate This Article