Homeپاکستانعمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر محفوظ فیصلہ کچھ دیر بعد سنایا جائے گا

عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر محفوظ فیصلہ کچھ دیر بعد سنایا جائے گا

عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر محفوظ فیصلہ کچھ دیر بعد سنایا جائے گا

اسلام آباد: (سنو نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد سنایا جائے گا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر سماعت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے لطیف کھوسہ، سلمان اکرم راجا، بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر علی گوہر، شیر افضل مروت و دیگر وکلاء جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے۔ سابق وزیراعظم کی بہنیں علیمہ خانم اور عظمیٰ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود رہیں۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ آج سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ آ جائے گا، چیئرمین ہی ٹی آئی کی سزا معطلی پر آج فیصلہ کردیں گے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی مخالفت کی، مختلف قوانین اور عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے۔ چیف جسٹس نے امجد پرویز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے 6 نقاط اٹھائے تھے اسی پر رہیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے موقف اپنایا کہ 2017 میں الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے گوشوارے چھپائے گئے، میں شارٹ سینٹینس کی بنیاد پر سزا معطلی کی اپیل کی مخالفت نہیں کر رہا، میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ حکومت کو نوٹس کیے بغیر اپیل پر کارروائی نہیں کی جا سکتی، قانون بھی یہی کہتا ہے کہ حکومت کو نوٹس ضروری ہے۔

وکیل امجد پرویز نے کہا کہ عمران خان کی سزا معطلی درخواست میں ریاست کو فریق نہیں بنایا گیا۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کی عمران خان کے خلاف پرائیویٹ کمپلینٹ ہے، ٹرائل کورٹ میں کہیں ریاست کا ذکر نہیں آیا، یہاں فریق بنانا کیوں ضروری ہے ؟ نیب کے مقدمات میں تو پبلک پراسیکیوٹر موجود نہیں ہوتا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے موقف اپنایا کہ نیب کے اپنے پراسیکیوٹر موجود ہوتے ہیں جنہیں سنا جاتا ہے، نیب قانون میں پبلک پراسیکیوٹر کا ذکر ہی نہیں ہے، پبلک پراسیکیوٹر کی بات سی آر پی سی کرتا ہے، میری یہی درخواست ہے کہ حکومت کو نوٹس جاری کیا جائے، قانون میں کمپلیننٹ کا لفظ ہی نہیں، اسٹیٹ کا لفظ ہے۔

وکیل امجد پرویز نے سیشن کورٹ کے براہ راست کمپلینٹ سننے کے نقطے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تعزیرات پاکستان کے تحت کسی بھی جرم کا ٹرائل ہونا ہی سی آر پی سی کے تحت ہے، تقریباً 50 سالوں میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کی کمپلینٹ آج تک کسی مجسٹریٹ کے پاس نہیں گئی ہے، مجسٹریٹ کے پاس تو کسی کمپلیکنٹ پر آرڈر پاس کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے، مجسٹریٹ صرف اپنے دائر اختیار کی کمپلینٹ پر آرڈر جاری کر سکتا ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل امجد پرویز سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ کمپلیٹ فائل کرنے میں کوئی کوتاہی ہے بھی تو اسکا اثر ٹرائل پر نہیں پڑے گا؟ جس پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی میرا یہی نقطہ ہے کہ ٹرائل تو عدالت نے ہی کرنا ہے، چاہے مجسٹریٹ کے پاس فائل ہو یا براہ راست۔

وکیل امجد پرویز نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل میں اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ دائرہ اختیار کا اس معاملے میں ایشو ہی نہیں ہے، قانون کہتا ہے competent jurisdiction والی عدالت ہی آرڈر پاس کر سکتی ہے، الیکشن ایکٹ کیمطابق سیشن کورٹ بالکل competent jurisdiction والی کورٹ ہے۔

چیف جسٹس نے وکیل امجد پرویز سے سوال کیا کہ آپ کہہ رہے ہی کہ اگر یہ غلطی ہے بھی تو وہ ٹرائل کو خراب نہیں کریگی؟ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ کوئی نیا قانون نہیں بلکہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے، کوئی ایک ایسا فیصلہ موجود نہیں جہاں کرپٹ پریکٹیسز کی شکایت مجسٹریٹ کے پاس دائر ہوئی ہو، یہ عدالتی دائرہ اختیار کا معاملہ ہی نہیں ہے، یہ کہہ رہے ہیں کہ کمپلینٹ مجسٹریٹ سے ہوکر سیشن عدالت نہیں آئی، دائرہ اختیار تو سیشن کورٹ کا ہی ہے، ایک ججمنٹ یہ پیش کر دیں جس میں مجسٹریٹ سے ہوکر کمپلینٹ عدالت آئی ہو۔

امجد پرویز نے کہا کہ میں نے 14 فیصلوں کا حوالہ دیا ہے، اجازت دیں بریک کی تو میں دوائی کھا لوں؟ جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ 5 منٹ کی بریک دے دوں ؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 15 منٹ کی بریک دے دیں۔ عدالت نے سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ کر دیا۔

وقفہ سماعت کے بعد وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ authorization الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد دی گئی، الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب ہوئے، الیکشن کمیشن کے فیصلے میں چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل امجد پرویز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ دفتر جو بھی ضروری ہو کرے، الیکشن کمیشن نے کسی فرد کو تو ہدایت جاری نہیں کی، الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کو تو ہدایت جاری نہیں کی، وہ کیوں کمپلین کرے؟۔

وکیل امجد پرویز نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تمام ممبران نے اپنے فیصلے میں متفقہ طور پر اجازت دی۔ چیف جسٹس عامر فارووق نے کہا کہ الیکشن کمیشن اگر سیکرٹری کمیشن کو ڈائریکشن دیتا تو وہ بات الگ تھی، یہاں الیکشن کمیشن نے سیکرٹری کی بجائے آفس کو یہ ہدایت دی ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اس کمپلینٹ کا ڈرافٹ الیکشن کمیشن نے منظور کیا، الیکشن کمیشن کے فل کمیشن نے کمپلینٹ کی منظوری دی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اگر الیکشن کمیشن نے authorization کے حوالے ڈرافٹ کی منظوری دی ہے تو کیا آپ نے بطور شواہد یہ ریکارڈ پیش کیا ؟ جس پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں یہ ریکارڈ پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو بروز منگل مورخہ 28 اگست کو صبح ساڑھے 11 بجے سنایا جائے گا۔

Share With:
Rate This Article