12 April 2024

Homeتازہ ترینغزہ جنگ بندی: فلسطینیوں کی بڑی تعداد واپس لوٹنا شروع

غزہ جنگ بندی: فلسطینیوں کی بڑی تعداد واپس لوٹنا شروع

غزہ جنگ بندی: فلسطینیوں کی بڑی تعداد واپس لوٹنا شروع

غزہ جنگ بندی: فلسطینیوں کی بڑی تعداد واپس لوٹنا شروع

غزہ: (سنو نیوز) غزہ میں چار روزہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد فلسطینیوں نے بڑی تعدا دمیں  اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔

تفصیل کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان چار روزہ عارضی جنگ بندی جمعہ کی صبح سے نافذ العمل ہو گئی ہے۔ اس جنگ میں شمالی غزہ کے ہزاروں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر جنوب کی طرف جانا پڑا تھا۔ جمعہ کو جب چار روزہ جنگ بندی شروع ہوئی تو خان ​​یونس سے بے گھر ہونے والے بہت سے فلسطینیوں کو اپنے گھروں کی طرف جاتے دیکھا گیا۔

امدادی سامان سے لدی گاڑیاں مصر کی سرحد پر واقع رفح کراسنگ سے غزہ میں داخل ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔ تاہم اسرائیلی فوج نے لوگوں کو شمالی غزہ کی طرف نہ جانے کا مشورہ دینے والے کتابچے گرائے ہیں۔ ان کے مطابق ‘یہ وقفہ عارضی ہے اور غزہ کا شمالی علاقہ جنگی علاقہ ہے۔’

یہ بھی پڑھیں:

اگر زمین پر جہنم ہے تو وہ شمالی غزہ میں ہے: اقوام متحدہ

غزہ جنگ بندی فلسطینیوں کیلئے اپنے پیاروں کی تدفین کا موقع:

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے ترجمان جیمز ایلڈر کا کہنا ہے کہ فلسطینی اس جنگ بندی کو ملبے تلے دبے بچوں کی تلاش یا اپنے مُردوں کو دفنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔شمال میں ایک ہزار بچے ہیں جو ممکنہ طور پر ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ لہذا ہوسکتا ہے کہ یہ جنگ بندی لوگوں کو اپنے خاندان کے افراد کو تلاش کرنے اور اپنے مُردوں کو دفنانے کا موقع بھی فراہم کرے۔ یونیسیف کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہر چیز میں تباہی کے آثار ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ، اب تک کی سب سے اہم پیش رفت:

مقامی وقت کے مطابق صبح 7:00 بجے (5.00 GMT)، قطر کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ عمل میں آیا۔

یہ جنگ بندی مزید تین دن تک جاری رہنے والی ہے۔ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کی پٹی سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس دوران اپنے گھروں کو واپس جانے کی کوشش نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:

بیروت کو غزہ میں بدل دیں گے، اسرائیل کی حسن نصراللہ کو دھمکی

غزہ کے شمال میں جانے کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں پر گولی چلانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اس معاہدے کے تحت روزانہ 200 ٹرک طبی امداد، پانی اور خوراک لے کر غزہ میں داخل ہونے والے ہیں۔ انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل آج صبح شروع ہوئی لیکن امدادی ادارے آکسفیم نے کہا کہ یہ امداد “کافی نہیں” ہے۔

اس معاہدے کے تحت چار دنوں کے دوران مجموعی طور پر 50 یرغمالیوں کو 150 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا ۔ مصر نے کہا ہے کہ یومیہ 130,000 لیٹر ایندھن غزہ بھیجا جائے گا۔

7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں میں 1200 افراد ہلاک اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ حماس کے زیر کنٹرول غزہ کے طبی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جوابی حملوں میں 14000 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔

Share With:
Rate This Article