Suno News
چکوال طلبہ زیادتی سکینڈل:تفتیش کا سلسلہ مزید بڑھادیا گیا
Image

چکوال: (رپورٹ، رفاقت محمود) تھانہ صدر کی حدود میں کم عمر طلبہ کے ساتھ زیادتی کا بڑا سیکنڈل،سی سی ٹی وی کیمرے اور دیگر شواہد کو قبضے میں لے کر تفتیش کو مزید آگے بڑھا دیا گیا۔

تفصیل کے مطابق چکوال تھانہ صدر کی حدود میں کم عمر طلبہ کے ساتھ زیادتی کا بڑا سیکنڈل میڈیا پر ہائی لائٹ ہوا تو پولیس بھی حرکت میں آگئی۔ 2 ملزمان کے خلاف جمعہ کے روز تھانہ صدر نے مقدمہ درج کرلیا۔پولیس نےایک ملزم کوجاتلی روپڑ شریف اور دوسرے کو میانوالی سے گرفتار کیا جبکہ ڈی پی او چکوال نے موقع پر پہنچ کر CCTV کیمرے اور دیگر شواہد کو قبضے میں لیا اور تفتیش شروع کی۔

پولیس کی جانب سے علاقہ مجسٹریٹ سے چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا اور تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے مدرسے کے پرنسپل اور ایڈمن بلال کو بھی گرفتار کر لیا۔ایف آئی آر کے مطابق ایک بچے کے والد نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ میرے بیٹے سمیت 14طلبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ زیادتی کا نشانہ بننے والے طلبہ کی عمریں 12اور14سال بتائی جاتی ہیں۔

ملزمان بچوں کو ڈراتے اور ان کے کے جسم پر چاقو سے اپنے نام کا پہلا لفظ ذیشان Z اور انیسA کا نشان بناتے تھے۔دونوں ملزمان کی عمریں 18سال اور 23 سال ہیں۔ ابتدائی میڈیکل کے مطابق 14 بچوں کے ساتھ زیادتی اور جنسی تشدد کیا گیا جن میں سے 9 بچوں کے والدین نے میڈیکل کرانے سے معذرت کر لی جبکہ 5 بچوں کے والدین راضی ہوئے جن کے ڈی این اے سیمپل لاہور بھجوا دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:چکوال: معلموں پر 14 کمسن طلبہ کیساتھ جنسی زیادتی کا الزام

ذرائع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچے کا والد جب اسے مدرسے ملنے آیا تو اس نے سارا معاملہ بتایا جس پر اس شخص نے ڈی پی چکوال سے جمعہ کے روز کھلی کچہری میں رابطہ کیا ۔ معاملہ میڈیا پر ہائی لائٹ ہوا تو نگران وزیراعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی نے بھی معاملے کا نوٹس لے لیا ۔گذشتہ روز وہ بچوں کے والدین سے ملے اور ان کی دار درسی کی اوریہ یقین دہانی کروائی کہ اگر وہ ڈسٹرکٹ پبلک سکول میں یا کہیں بھی پڑھنا چاہیں تو حکومت ان کاخرچہ برداشت کریگی ۔

ادھر پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے کیس میں مزید تفتیش کرتے ہوئے ملزمان سے چاقو بھی بر آمد کر لیا ہے۔نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی چکوال آمد کے باعث پولیس نے مدرسہ کو سیل کر کے زیر تعلیم بچوں کو گھر بھیج دیا تھا۔ اسی ضمن میں جب متاثرین سے بات چیت کرنے کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے سامنے آکر اپنا بیان ریکارڈ کروانے سے منع کر دیا اور کہا کہ ہمیں پولیس پر پورا اعتماد ہے کہ ہمیں انصاف ملےگا ۔

انہوں نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس کیس کو پاکستان میں ایک مثال بنایا جائیگا تاکہ مزید بچے اس قسم کی کسی بھی واردات کا شکار نہیں ہونگے۔ اگر بات کی جائے جنسی زیادتی کے واقعات کی تو ضلع چکوال میں رواں سال 91 جنسی زیادتی کے مقدمات درج ہوئے جبکہ گذشتہ سال 2022 ءمیں ٹوٹل 74 مقدمات درج ہوئے۔

دوسری جانب مدرسہ منتظمین کا کہنا ہے کہ جس قسم کے الزامات کا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ادارے میں بچوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کیلئے CCTV کیمرے اور دیگر فول پروف انتظامات بروئے کار لائے گئے ہیں۔ رواں ماہ کے اوائل میں چند بچوں نے دورانِ کلاس دو اساتذہ کی جانب سے جسمانی تشدد کی شکایت کی جو CCTV فوٹیج سے بھی ثابت ہوئی،جس پر ہم نے بچوں کے والدین کو مدرسہ میں بلا کر تمام صورتحال سے آگاہ کیا اور دونوں اساتذہ قاری ذیشان اور قاری انیس کو مورخہ 11 نومبر کو ہی ادارہ سے فارغ کر دیا تھا۔

اس پر ڈی پی او چکوال کا کہنا ہے مدرسہ انتظامیہ کو پہلے سے ہی معاملے کا علم تھا اور ان کی جانب سے معاملہ دبانے کی کوشش کی گئی جس پر منتظمین کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے لیکن وہ اس وقت فرار ہیں اور پولیس منتظمین کو گرفتار کرنے کیلئے چھاپے مار رہی ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ ڈی پی او سخت ہدایات دی ہیں کہ جلد سے جلد اس معاملے کی تفتیش مکمل کی جائے اور ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ اس واقعہ کے بعد عوامی حلقوں میں یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی ۔