Suno News
اسرائیلی فوج کا الٹی میٹم: الشفا ہسپتال سے لوگوں نے انخلا شروع کر دیا
Image

غزہ: (سنو نیوز) اسرائیل کی غزہ پر جارحیت بڑھنے لگی۔ قابض صیہونی فوج نے غزہ پر دو بڑے حملے کیے جس میں اب تک 200 فلسطینیوں کی شہادت کی تصدیق کی جاچکی ہے۔ آج صبح اسرائیلی فوج نے الشفا ہسپتال کو ایک گھنٹے کے الٹی میٹم پر خالی کرنے کا حکم دیا۔

ڈاکٹروں نے کم وقت میں ہسپتال سے انخلاء کو ناممکن قرار دیا جس کے بعد قابض فوج نے زبردستی ہسپتال خالی کرانا شروع کر دیا۔ ہسپتال میں سات ہزار مریضوں، ڈاکٹروں، طبی عملے اور بے گھر افراد نے پناہ لی ہوئی تھی۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک سات سو سے زائد افراد نے اسپتال سے انخلا کر لیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق قابض فوج نے ہسپتال کے آکسیجن اسٹیشن کو بارود سے اڑا دیا ہے۔ پانی کی پائپ لائنوں کو بھی توڑا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کے مہاجر کیمپ جبالیہ کے الفخورہ اسکول پر بھی فضائی حملہ کیا ۔ سکول میں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ اس سے پہلے اسرائیلی فوج نے خان یونس پر حملہ پر کیا جس میں اٹھائیس فلسطینی شہید ہو گئے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ لیکن ہسپتال کی عمارتوں کی تلاشی لینے والی اسرائیلی فوج نے اس کی تردید کی ہے۔

اسرائیلی فورسز کا دعویٰ ہے کہ "ہسپتال کے نیچے سرنگوں میں حماس کے ٹھکانے ہیں۔" لیکن حماس نے ایسے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ قبل ازیں الشفاء ہسپتال کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے انہیں لاؤڈ سپیکر کے ذریعے متنبہ کیا کہ وہ مریضوں، ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو فوری طور پر وہاں سے نکال دیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق اسرائیلی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مریض اور ڈاکٹر بندرگاہ پر جائیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم 650 افراد ہسپتال میں زخمی ہیں۔

الشفاء اسپتال میں مریضوں کے علاوہ متعدد افراد نے بھی بم دھماکوں سے پناہ لی تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بم دھماکوں میں جن زخمیوں کی ٹانگیں کٹ گئی ہیں وہ ہسپتال سے باہر نہیں جاسکتے۔ دوسری جانب جنوبی غزہ میں ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ خان یونس میں ایک کثیر المنزلہ عمارت پر کیے گئے فضائی حملے میں 26 فلسطینی مارے گئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل نے کتابچے شائع کیے ہیں اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ علاقے میں حماس کے خلاف کارروائیوں سے قبل پناہ گاہوں میں جائیں۔

اسی دوران غزہ سے فلسطینی بچوں کی پہلی پرواز، جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے، متحدہ عرب امارات پہنچ گئی ہے۔ تقریباً 15 بچوں کو ان کے اہل خانہ کے ساتھ غزہ سے مصر رفح بندرگاہ کے ذریعے چھوڑا گیا اور وہاں سے انہیں متحدہ عرب امارات بھیج دیا گیا۔

متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ وہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں غزہ سے ایک ہزار خواتین اور بچوں کو اپنے ہسپتالوں میں علاج کے لیے بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ غزہ میں محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دنوں میں الشفاء ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں بجلی کی کمی کے باعث 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

الشفاء ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کو اسپتال کے اندر اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا تھا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

7 اکتوبر کو جب سے اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملہ شروع کیا ہے، اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو تیل کی سپلائی مکمل طور پر روک دی ہے۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس تیل کو حماس اپنے حملوں میں استعمال کر رہی ہے۔ تیل کی کمی کے باعث اقوام متحدہ نے کئی ہسپتالوں میں خدمات کی فراہمی بند کردی ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ ہر دو دن بعد 140,000 لیٹر تیل غزہ بھیجا جائے گا جو امدادی گاڑیوں اور دیگر فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ لیکن خیراتی اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کی یہ مقدار فلاحی کام فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ خدشہ ہے کہ غزہ میں شہری بھوک سے مر سکتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ خبریں آئی تھیں کہ بعض ہسپتالوں میں ایندھن کی کمی کے باعث کئی بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔