Suno News
اسرائیلی محاصرہ:الشفا ہسپتال کے آئی سی یومیں تمام مریض شہید
Image
غزہ: (سنو نیوز) فلسطین کے علاقے غزہ میں الشفا ہسپتال کے اسرائیلی محاصرے کے باعث طبی سہولیات نہ ہونے سے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں تمام مریض شہید ہو گئے۔ اسرائیل نے الشفا ہسپتال کا گھیراؤ جاری رکھا ہوا ہے، سیکڑوں محصور افراد اور طبی سہولیات نہ ہونے سے مریضوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔ وزارت صحت نے یہ اعلان ایسے وقت کیا جب اسرائیل نے غزہ میں ایک دن میں ایندھن کے دو ٹرکوں کے داخلے کی اجازت دینے کی امریکی درخواست پر رضا مندی ظاہر کی۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج نے الشفا کا ریڈیالوجی ڈپارٹمنٹ تباہ کر دیا، ہسپتال میں رکھی کئی لاشیں بھی نکال دیں۔ اب الشفا ہسپتال ڈائریکٹر کے مطابق الشفا ہسپتال میں کوئی آئی سی یو مریض اب زندہ نہیں رہا، الشفا میں رات گئے کم ازکم 22 فلسطینی جبکہ 3 دن میں 55 افراد انتقال کر چکے۔ اس سے قبل انتظامیہ نے کہا کہ الشفا ہسپتال میں ہر ایک منٹ میں ایک فلسطینی شہید ہو رہا ہے، نومولود اور شیرخوار بچوں سمیت بوڑھے اور ہر مریض موت کے قریب ہے اور اسرائیلی محاصرے کے باعث الشفا ہسپتال زندہ لوگوں کے لیے کھلا قبرستان بن ہو چکا ہے۔ الشفا ہسپتال میں 7000 افراد محصور ہیں جن میں مریض، طبی عملہ اور پناہ لینے والے فسلطینی شامل ہیں، محصور فلسطینیوں کے پاس نہ پانی ہے، نہ بجلی اور نہ ہی دیگر ضروریات زندگی میسر ہے۔ انتظامیہ نے کہا تھا کہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے بے گناہ لوگوں اور بچوں کو مرنے کیلئے چھوڑنا جنگی جرائم سے کم نہیں، اسرائیل نے نوزائیدہ بچوں کے انکوبیٹر فراہم کر دیا مگر بجلی کےبغیر وہ تابوت سے کم نہیں۔ اسرائیلی فوج کا غزہ میں ظلم وستم، شہداء کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے کہا کہ خوراک کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے شہریوں کو ’فاقے کے فوری خدشے‘ کا سامنا ہے، ایندھن کی قلت اور مواصلاتی رابطے نہ ہونے کی وجہ سے سرحد پار سے کوئی امدادی کارروائی نہیں ہوگی۔ مصری سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایندھن کے تین ٹرک مصر سے غزہ میں داخل ہونے کے لیے تیار تھے، لیکن علاقے کے اندر موجود ایک امدادی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ مزید ایندھن لایا جائے گا۔ ڈبلیو ایف پی کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سنڈی میک کین نے کہا کہ غزہ کی تقریباً پوری آبادی کو خوراک کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ سے مصر میں علاج کے لیے مریضوں کی باقاعدگی سے آمد و رفت کی اجازت دی جائے تاکہ مقامی ہسپتالوں پر دباؤ کم کیا جا سکے جہاں مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ محصور فلسطینی علاقے میں ترجیحی مریضوں کو علاج کے لیے لے جانے کی خاطر نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ فلسطینی علاقوں میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے رچرڈ پیپرکورن نے کہا کہ یہ (ہسپتال) واضح طور پر جارحیت کی وجہ سے پیدا ہونے والی لامتناہی ضروریات پوری کرنے کے لیے کے لیے کافی نہیں۔ جینیوا میں پریس بریفنگ میں انہوں نے شدید زخمی افراد اور بیمار مریضوں کے روزانہ مستقل، منظم، بلا روک ٹوک اور محفوظ طبی کے لیے ہمسایہ ملک مصر انخلا پر زور دیا۔ مقبوضہ بیت المقدس سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے پیپرکورن نے کہا کہ ایک دن میں 50 سے 60 مریضوں کو مصر منتقل کیا جانا چاہیے، جہاں انہیں صحیح علاج اور دیکھ بھال کی سہولت ملے گی۔ واضح رہے غزہ کی پٹی کے 36 میں سے 25 ہسپتال کام نہیں کر رہے اور باقی ماندہ ہسپتالوں کو خدمات فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔