Homeتازہ تریندنیا کو ایٹمی حملے کا خطرہ کتنا ہے؟

دنیا کو ایٹمی حملے کا خطرہ کتنا ہے؟

Nuclear War

دنیا کو ایٹمی حملے کا خطرہ کتنا ہے؟

جون 2023ء میں روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے جوہری ہتھیاروں کی پہلی کھیپ بیلاروس میں تعیناتی کے لیے بھیج دی ہے۔

یوکرینی کی جنگ کے آغاز سے ہی وہ ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دے رہے ہین لیکن یہ تعیناتی پہلی ٹھوس کارروائی ہے۔ یہ جوہری ہتھیار یوکرین کی سرحد کے قریب بیلاروس میں تعینات کیے جا رہے ہیں جہاں سے پولینڈ اور لیتھوانیا جیسے نیٹو ممالک کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ایسے میزائل اور لڑاکا طیارے بھی بھیجے گئے ہیں جو 500 کلومیٹر کے فاصلے تک ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کر سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے اسے ایک غیر ذمہ دارانہ فعل قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ روس نے یوکرین کے Zaporizhia جوہری بجلی گھر پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔

لیکن موجودہ کثیر قطبی دنیا میں نہ صرف روسی صدر پیوتن کی دھمکیاں باعث تشویش ہیں بلکہ چین بھی جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں امریکا اور روس کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ اسلحہ کنٹرول کے معاہدے ہر جگہ ختم ہو رہے ہیں اور نئے معاہدے نہیں ہو سکے ہیں۔

دنیا جہاں کے اس شمارے میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا دنیا میں ایٹمی حملے کا خطرہ بڑھ رہا ہے؟

کیا روسی صدر پیوتن ایٹمی جنگ چھیڑ سکتے ہیں؟

روس نے کہا ہے کہ اگر اس کی خود مختاری اور وجود کو خطرہ لاحق ہوا تو بلاشبہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔

روس کے پاس ہزاروں جوہری ہتھیار ہیں جن میں بہت سے چھوٹے ٹیکٹیکل نیوکلیئر وار ہیڈز بھی شامل ہیں جنہیں میدان جنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کچھ ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار اتنے ہی طاقتور ہیں جتنے ہیروشیما میں استعمال ہونے والے بم۔

روس کے سابق جوہری مذاکرات کار اور سینئر محقق نکولائی سوکوف کا کہنا ہے کہ یہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر روس کے موقف میں تبدیلی کی علامت ہے۔ ماہرین کے درمیان روس میں جوہری ہتھیاروں کے محدود استعمال کے بارے میں عوامی بحث جاری ہے۔ لیکن یہ صرف روسی حکومت کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ان ہتھیاروں کی تعیناتی نیٹو کے رکن ممالک کے لیے یوکرین سے زیادہ خطرہ ہے۔

نکولائی سوکوف کے مطابق ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یوکرین کے خلاف جنگ کو روس میں ایک پراکسی جنگ اور نیٹو کے خلاف لڑائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ روس یوکرین پر ایٹمی حملہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیکن میری ایک مختلف رائے ہے۔ میرے خیال میں اس کا امکان بہت کم ہے۔ مجھے فکر ہے کہ روس نیٹو کے ساتھ تنازع کو اس حد تک بڑھا سکتا ہے کہ اس سے جوہری تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔

ولادیمیر پیوتن اس تنازع کو اس حد تک کیسے لے جائیں گے؟

نکولائی سوکوف کہتے ہیں یہ حملہ اچانک نہیں ہوگا۔ پہلے چھوٹے چھوٹے جھگڑے ہوں گے جن میں روایتی ہتھیار استعمال ہوں گے۔ اس میں نیٹو کے ان اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جن کا تعلق یوکرین کی جنگ سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے؟ اس بات کا تعین کرے گا کہ تنازع کس حد تک بڑھ سکتا ہے۔ روس ایٹمی تجربہ بھی کر سکتا ہے، جس سے نیٹو کو سخت پیغام جائے گا۔ پولینڈ پر جوہری حملے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن یہ صورتحال دھماکا خیز ہوسکتی ہے۔

سینئر محقق نے کہا کہ روس تنازعات کو اتنا بڑھانا چاہتا ہے کہ جوہری تصادم کا خطرہ ہو اور نیٹو اس کے خوف سے پیچھے ہٹ جائے، یہ ایٹمی بلیک میلنگ ہے۔

دنیا اس ایٹمی بلیک میلنگ سے کیسے نمٹے گی؟

روس کے جوہری خطرے پر امریکی ردعمل بہت ناپا گیا۔ تاہم امریکی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں لگتا کہ روس ایٹمی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ لیکن دوسری جانب صدر جوبائیڈن نے اسے ایک ‘ایک حقیقی خطرہ’ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

امریکی تجزیہ کار رابرٹ لِٹواک کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر روس نے جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بائیڈن حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ روس چھوٹا ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرے یا بڑا بم، امریکا کے لیے دونوں کا استعمال ایک جیسا ہے۔ اور وہ اسے جوہری حملے کے طور پر دیکھے گا۔

یہی بات یوکرین کے Zaporizhia نیوکلیئر پاور پلانٹ پر روس کے قبضے پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ یہ پلانٹ گذشتہ ایک سال سے روس کے قبضے میں ہے۔

یوکرین کے صدر زیلینسکی نے کہا ہے کہ روس نے وہاں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔ ساتھ ہی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی رپورٹوں کے مطابق اس پلانٹ کے قریب بم دھماکوں کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔

امریکا روس کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر روس نے ایسا کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

رابرٹ لِٹواک کی رائے میں اگر روس کی وجہ سے اس پاور پلانٹ میں کوئی حادثہ ہوتا ہے تو امریکا اسے ایٹمی حملے کے طور پر دیکھے گا اور اس کے مطابق کارروائی کرے گا۔

لیکن کیا کوئی پیوتن کی ایٹمی دھمکیوں کو روک سکتا ہے؟

کچھ لوگ توقع کرتے ہیں کہ چینی رہنما شی جن پنگ یہ کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ چین نے ‘پہلے استعمال نہ کریں’ کی پالیسی پر بات کی ہے۔ یعنی اس نے کہا ہے کہ وہ تنازع کے دوران پہلے جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔

رابرٹ لِٹواک کہتے ہیں، امریکا نے چین پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ایسے ہتھیار روس کے حوالے نہ کرے جو یوکرین کے خلاف استعمال کیے جا سکیں۔ شی جن پنگ نے پیوتن سے ملاقات کی، بھارتی وزیراعظم مودی بھی وہاں موجود تھے۔ میرے خیال میں ان دونوں رہنماؤں نے یوکرین کے خلاف کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیار کے استعمال کی مخالفت کی۔ اس نے روس پر کچھ روک لگا دی ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کے بین الاقوامی معاہدے ہوئے۔ لیکن اب ان کی مدت ختم ہو چکی ہے اور نئے معاہدوں پر دستخط نہیں ہوئے ہیں۔

ماضی میں  دو سپر پاورز تھیں اور تنازعات کو دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے قابو میں رکھا جا سکتا تھا۔ لیکن اب چین بھی ایک سپر پاور ہے اور دنیا سہ قطبی بن چکی ہے۔ جس کی وجہ سے نئے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ تصادم کے بڑھنے کے امکانات وسیع ہو گئے ہیں۔ مثال کے طور پر یوکرین یورپ کی سلامتی کے نقطہ نظر سے اہم ہے۔ یہی صورتحال شمال مشرقی ایشیا میں تائیوان اور چین کے درمیان ہے۔

جہاں تک چین کا تعلق ہے وہ 1964ء میں ہی ایٹمی طاقت بن گیا تھا لیکن اب وہ ایٹمی سپر پاور بنتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی توازن اور نظام کی پیچیدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

نارویجن ڈیفنس انسٹی ٹیوٹ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہنریک ہیم کا کہنا ہے کہ اب بہت سے ممالک اپنی دفاعی پالیسی میں جوہری ہتھیاروں کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایشیا میں اس میں شدت آتی جا رہی ہے۔ شمالی کوریا کے جوہری تجربات ہی نہیں بلکہ چین کی جوہری پالیسی نے بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے چیلنج بڑھا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روایتی طور پر، جوہری ہتھیاروں نے امریکا اور چین کے تعلقات میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا لیکن اب چین اپنے جوہری ہتھیاروں کو بڑھا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دشمنی تیز ہو گئی ہے۔

چین نے تین سال قبل اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں اضافہ کیا، جس کا پتہ 2021ء میں لگا۔ محققین نے پایا کہ مغربی چین میں تین مقامات پر میزائل ‘سائلو فیلڈز’ بنائے گئے ہیں۔ ہر جگہ پر 100 سے زیادہ ‘سائلوس’ یعنی زیر زمین عمارتیں ہیں۔ اس کے بعد سے جوہری ہتھیاروں کے مستقبل اور امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات پر بحث گرم ہو گئی ہے۔

کچھ اندازوں کے مطابق اس وقت چین کے پاس 200 سے 300 کے درمیان جوہری وار ہیڈز ہیں جبکہ امریکا کے پاس تقریباً 1500 جوہری وار ہیڈز تعینات ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ آنے والے 10-12 سالوں میں چین کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد امریکا کے برابر ہو جائے گی۔

چین اپنی جوہری ڈھال کو مضبوط کرنا چاہتا ہے تاکہ اگر ضرورت پڑی تو تائیوان کے خلاف جارحانہ کارروائی کی جا سکے۔ جیسا کہ روس یوکرین میں کر رہا ہے۔

اسے دیکھنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ امریکا کے جوہری ہتھیاروں اور دیگر جدید ہتھیاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے چین امریکا کے ساتھ کسی بھی تنازع کا سامنا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ اگر امریکا پہلے چین کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرے تو چین جوابی کارروائی کر سکے۔

چین کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں توسیع کے پیش نظر یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چین اپنے ‘نو فرسٹ اسٹرائیک ڈاکٹرائن’ کو ترک کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

چین کی یہ جوہری پالیسی 1960ء کی دہائی سے جاری ہے۔ اس حوالے سے کوئی سرکاری معاہدہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ان کی یک طرفہ یقین دہانی رہی ہے۔

امریکا اور روس نے کبھی بھی اس قسم کی ‘نو فرسٹ اسٹرائیک’ پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔ امریکا اور روس دونوں مخصوص حالات میں جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال کا اختیار برقرار رکھتے ہیں۔

امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کے کنٹرول کے حوالے سے کئی مذاکرات ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اس طرح کی بات چیت کے انتظامات کیے گئے ہیں لیکن امریکا اور چین کے درمیان ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسے مذاکرات ہونے کے آثار ہیں۔

رواں سال کے آغاز میں روس نے کہا تھا کہ وہ نئے اسٹرٹیجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی میں شامل نہیں ہوگا۔ اس معاہدے کی وجہ سے دس سال سے زائد عرصے تک امریکا اور روس کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کا کنٹرول رہا۔ نئے معاہدے کے لیے بات چیت کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

نیٹو کی سابق ڈپٹی سیکرٹری روز گوٹیمولر نے اس اہم معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی شقوں کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا رہا ہے۔ روس نے نئے معاہدے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ یعنی اب وہ ایٹمی اڈوں کے معائنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر امریکا کے ساتھ اپنی جوہری ڈیٹرنس کی حیثیت کا اشتراک نہیں کر رہا۔

لیکن روس نے کہا ہے کہ جب تک نیا معاہدہ نہیں ہو جاتا، وہ اس معاہدے کی دفعات کے تحت ہتھیاروں پر کنٹرول برقرار رکھے گا۔ یعنی وہ جوہری ہتھیاروں یعنی میزائلوں اور لڑاکا طیارے استعمال کرنے والے نظاموں کی کل تعداد کو 700 تک محدود کر دے گا۔ امریکا اور روس دونوں نے کہا ہے کہ وہ فی الحال جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو محدود رکھیں گے۔

روز گوٹیمولر کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال 1991ء میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے وقت کی صورت حال سے ملتی جلتی ہے۔ 1991ء اور 1992ء میں ایک بڑا بحران تھا۔ بے یقینی اور عدم استحکام تھا۔ اس وقت سوویت یونین کے پاس موجودہ روس سے زیادہ جوہری ہتھیار تھے۔ تب ہمیں خدشہ تھا کہ شاید ان میں سے کچھ ہتھیار غائب ہو جائیں یا دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جائیں۔

“اس وقت روس کے پاس چار سے پانچ ہزار جوہری ہتھیار ہیں۔ اس وقت ان خطرات کو کم کرنے کے لیے امریکا اور سوویت یونین کے رہنماؤں کے درمیان تعاون کی واضح کوششیں ہو رہی تھیں جو اب نظر نہیں آتیں۔

روس میں جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال کے بارے میں بحث جاری ہے۔ لیکن مغربی ممالک میں توقع ہے کہ روس کی جوہری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تاہم روس کے اندر عدم استحکام تشویشناک ہے۔ حال ہی میں روس میں ویگنر گروپ کی بغاوت ہوئی تھی۔ ایسے واقعات صدر پیوتن کی ساکھ کو چیلنج کر سکتے ہیں۔

ایسی صورت حال میں وہ اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ لیکن روز گوٹیمولر نے کہا، “میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ ویگنر گروپ کی بغاوت پیوتن کے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکانات کو بڑھا دے گی۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ولادیمیر پیوتن نے تین دنوں میں دو بار کہا کہ روس خانہ جنگی کے دہانے پر ہے۔ اگر خانہ جنگی چھڑ جاتی ہے تو جوہری ہتھیاروں اور جوہری مواد کی دیکھ بھال اور حفاظت کے بارے میں فطری تشویش ہے۔

جوہری ہتھیاروں کا کنٹرول، کیا چین سے بات چیت ہو سکتی ہے؟

روز گوٹیمولر کا کہنا ہے کہ اس کا امکان بہت کم ہے کیونکہ چین شفافیت نہیں چاہتا۔ وہ اپنی جوہری اور دیگر فوجی صلاحیتوں کے بارے میں معلومات امریکا کے ساتھ شیئر کرنا پسند نہیں کرے گا کیونکہ اسے شک ہے کہ امریکا اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

Share With:
Rate This Article