Homeتازہ ترینجان ایف کینیڈی کے قتل کی تفتیش ، ہزاروں دستاویزات عام کر دی گئیں

جان ایف کینیڈی کے قتل کی تفتیش ، ہزاروں دستاویزات عام کر دی گئیں

جان ایف کینیڈی کے قتل کی تفتیش ، ہزاروں دستاویزات عام کر دی گئیں

امریکی صدر جو بائیڈن نے سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کی تفتیش سے متعلق ہزاروں ​​دستاویزات کی اشاعت کا حکم دیا تھا، اب انھیں پبلک کیلئے عام کر دیا گیا ہے۔ کینیڈی کو 1963 میں ڈیلاس کے دورے کے دوران ایک سنائپر نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق ہزاروں سرکاری دستاویزات کو جاری کر دیا ہے۔یہ اہم دستاویزات 13 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں جن کو عام شہری آن لائن پر دیکھ سکتے ہیں۔

توقع نہیں ہے کہ دستاویزات کےاندر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق کوئی بہت زیادہ اہمیت کی معلومات ہوں گی، لیکن مورخین کو امید ہے کہ وہ اس قتل میں ملوث ملزمان کے بارے میں مزید جان سکیں گے۔

جمعرات کو صدر جو بائیڈن نے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس میں دستاویزات کو شائع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔تاہم “نامعلوم” خطرے سے بچانے کے لیے کئی دستاویزات جولائی 2023 تک غیر مطبوعہ رہیں گی۔

خیال رہےکہ امریکی تحقیقات نے 1964 میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھاکہ کینیڈی کو امریکی شہری لی ہروی اوسوالڈ نے قتل کیا تھا، جو پہلے سوویت یونین میں رہ چکے تھے، اور اس نے اکیلے یہ کام کیا تھا۔

کینیڈی کی موت نے سازشی نظریات کو ہوا دی، لیکن سی آئی اے نے کہا ہے کہ اس نے امریکی تفتیش کاروں سے اوسوالڈ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں چھپائی ہیں۔

کینیڈی کے قتل کے محرکات پر سٹڈی کرنے والے کئی ماہرین طویل عرصے سے امید کرتے رہے ہیں کہ ان دستاویزات سے اوسوالڈ کی میکسیکو سٹی میں نقل و حرکت کے بارے میں مزید معلومات سامنے آئیں گی۔سی آئی اے نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ اوسوالڈ کے میکسیکو سٹی کے سفر کے بارے میں اس کے پاس موجود تمام معلومات پہلے شائع کی جا چکی ہیں۔

ادھر وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ دستاویزات کے اجراء سے عوام کو اس قتل کی تحقیقات کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

صدر بائیڈن نے اپنے حکم نامے میں لکھا تھا کہ “انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پہلے سے جزوی طور پر شائع ہونے والی تقریباً 16ہزار دستاویزات کا جائزہ لینے کی بھرپور کوشش کی ہے، اور یہ طے کیا ہے کہ ان دستاویزات میں سے 70 فیصد کو اب مکمل طور پر شائع کیا جا سکتا ہے۔”

حکم نامے کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس “بڑی تعداد میں دستاویزات” کی اشاعت سے امریکی عوام کو ریاستہائے متحدہ کی تاریخ کے اس المناک واقعے کی حکومتی تحقیقات کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملے گا۔

یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی صدارتی مدت کے دوران ہزاروں صفحات شائع کیے، لیکن قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید دستاویزات شائع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ 1992 کا قانون حکومت سے تمام دستاویزات کو 2017 تک شائع کرنے کا پابند ہے۔

اکتوبر 2021 میں، بائیڈن نے 5 ہزار سے زائد دستاویزات جاری کیں، لیکن کہا کہ دیگر کو خفیہ رکھا جائے گا تاکہ “فوجی دفاعی شعبے، انٹیلی جنس، سیکیورٹی سروسز، اور خارجہ تعلقات کو نامعلوم خطرے سے بچایا جا سکے۔”

Share With:
Rate This Article