Suno News
عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف نیب کادائرہ مزید تنگ
Image

لاہور: (سنو نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف نیب نے تحقیقات کا دائرہ مزید تنگ کر دیا ہے۔ دونوں کیخلاف مبینہ کرپشن کا ایک اور کیس تیار کر لیا گیا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی پر اختیارات کا ناجائز استعمال اقرباء پروری اور بے نامی اثاثے بنانے کے مبینہ الزامات ہیں۔ کیس میں عمران خان، بشری بی بی اور فرح شہزادی عرف گوگی کو مرکزی ملزم نامزد کیا جائے گا۔

تفصیل کے مطابق نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف مبینہ کرپشن کا ایک اور کیس تیار کر لیا گیا ہے۔جس میں نیب کو اہم شواہد مل گئے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ کام کرنے والے اہم وفاقی افسران گواہ بننے کو تیار ہو گئے ہیں۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ساتھ کام کرنے والے اہم سرکاری افسران کے بیان ریکارڈ کیے جائیں گے۔ سرکاری افسران نے باقاعدہ بتایا کہ ہمیں یہ کام کرنے کا سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے کہا اور ہم نے کر دیا۔

افسران نے مبینہ پر الزام لگایا کہ پریشر وزیراعظم آفس کی جانب سے دیا جاتا تھا۔وفاق اور پنجاب کے 7 سے 8 بیورو کریٹس وعدہ معاف گواہ بنیں گے۔ نیب نے سابق وزیراعظم کے دورے حکومت کی اہم وزارتوں کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔

ریکارڈ کی مدد سے نیب افسران کے ہاتھ اہم ثبوت لگ گئے ہیں۔ نیب نے بیرون ملک سے بھی کک بیکس کے شواہد حاصل کئے گئے ہیں۔ نیب تفتشی ٹیم آئندہ چند روز میں ریفرنس کیلئےچیئرمین نیب سے اجازت طلب کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:سائفر کیس کے ٹرائل پر حکم امتناعی میں 20 نومبر تک توسیع

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کے حکم میں 20 نومبر (بروز پیر) تک توسیع کر دی۔ عدالت نے کہا کہ سائفر کیس کی سماعت پیر دن گیارہ بجے کریں گے اسی روز فیصلہ کر دیں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اوپن کورٹ سماعت اور جج تعیناتی کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ سماعت پر آرڈر کے بعد کیا ہوا، میں فوری اڈیالہ جیل پہنچا جہاں جیل ٹرائل جاری تھا، مجھے کافی دیر انتظار کے بعد اندر جانے کی اجازت ملی اور ایک گواہ کا بیان بھی ہو چکا تھا، ٹرائل کورٹ نے حکم امتناع کے بعد بھی ساڑھے تین بجے تک سماعت جاری رکھی۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے اپنے دلائل کا آغاز کیا اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے جسٹس عامر فاروق کا لکھا فیصلہ عدالت کے سامنے پڑھا اور کہا کہ اسلام ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت مسترد کی تھی، سنگل بنچ نے لکھا کہ جیل ٹرائل بھی اوپن ٹرائل ہونا چاہئے۔

جسٹس حسن اورنگزیب نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب، یہ فیصلہ ہمارے علم میں ہے کیا آپ نے ہمارا آرڈر پڑھا ؟ اوپن ٹرائل کا مطلب اوپن ٹرائل ہے وہ ہر ایک کیلئے اوپن ہو، سنگل بنچ نے لکھا کہ پہلے ہو چکا ٹرائل کالعدم نہیں ہوگا، ہمیں بھی اُسی طرح مطمئن کریں جیسے آپ نے سنگل بنچ کو مطمئن کیا، اٹارنی جنرل صاحب ہم توقع کرتے ہیں کہ آپ نے ہمارا گزشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:خصوصی عدالت کو سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ہمیں جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن اور ان کا سارا پراسس بتائیں، ہم چاہیں گے کہ اس بنچ کو ویسے ہی مطمئن کیا جائے جیسے سنگل بنچ کو کیا۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب سے پہلے تو میری رائے میں یہ انٹرا کورٹ اپیل قابل سماعت ہی نہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو جان کے خطرے کے پیش نظر جیل ٹرائل کا نوٹی فکیشن ہوا، عمران خان اٹک جیل میں تھے تو اس وقت پہلے جیل ٹرائل کا نوٹی فکیشن ہوا۔

اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ 2 اکتوبر کو سائفر کیس کا چالان جمع ہوا، 23 اکتوبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ جج صاحب کہہ کیا رہے ہیں ؟ ان خطوط کی لینگوئج کچھ عجیب سی ہے، ایسے لگ رہا ہے وہ کہہ رہے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں میں desire دے دیتا ہوں، جج نے جیل ٹرائل کا خط لکھا تھا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری استدعا یہ ہے یہ انٹرا کورٹ اپیل قابل سماعت ہی نہیں۔ جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ راجہ صاحب آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ اس کیس کو اس عدالت سے pullout کرنا چاہتے ہیں۔

عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم اٹارنی جنرل کی طرف سے اٹھائے گئے نکات پر جواب دیں گے، عدالت نے گزشتہ سماعت پر جو دستاویزات طلب کی گئی تھیں وہ جمع نہیں کرائی جا رہیں، شاہ محمود قریشی کی جیل ٹرائل کیخلاف درخواست کا اس کیس سے کچھ لینا دینا نہیں، جیل ٹرائل سے متعلق تمام عمل انتظامیہ سے متعلقہ ہے، اس کی دستاویزات طلب کی گئی تھیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے پیپر بک جمع کرائی ہے جس میں کابینہ کی منظوری سمیت دیگر متعلقہ دستاویزات ہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر فیصلہ کے بعد شاید انٹرا کورٹ اپیل آجائے، شاہ محمود قریشی کی انٹرا کورٹ اپیل آتی ہے تو متعلقہ بنچ اس کو دیکھ لے گا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جب سیکورٹی خدشات پر آرڈر جاری کیا گیا اس وقت حالات مختلف تھے اور اب حالات مختلف ہیں، جب چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ آیا تب وہ اٹک جیل میں تھے، اٹک جیل سے عدالت میں پیش کرنے کیلئے سیکیورٹی مسائل ہوسکتے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کو اب اڈیالہ جیل منتقل کیا جاچکا ہے، صورتحال بدل چکی ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے یہ بتانا ہے کہ وزارت قانون کے جاری کردہ این او سی کو کس پراسس کے تحت جاری کیا گیا، موجودہ کیس میں ہم ایسی صورتحال میں ہیں جہاں درخواست گزار چیرمین پی ٹی آئی کو سزائے موت ہو سکتی ہے یا وہ ساری زندگی جیل میں گزار سکتے ہیں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا امید ہے ایسا نا ہو۔

جسٹس میاں گل حسن نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس کیس میں جو سیکشن لگی ہے اس کے مطابق سزائے موت ہو سکتی ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ جی معلوم ہے مگر میرا نہیں خیال سزائے موت ہو۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ اچھے آدمی ہیں، خود کہہ رہے پراسیکیوشن میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے ان کیمرا کی کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کہا کہ اس پر کیا آرڈر ہوا ؟ وہ بہت اہم ہے، عدالت نے تو کہا ہے کہ اگر حساس دستاویزات آئیں تو صرف اس حد تک ان کیمرا کارروائی ہو گی۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیل ٹرائل اور ٹرائل کے دوران پبلک کی عدم موجودگی دو مختلف باتیں ہیں، 12 ستمبر 2023 کو جج نے پہلی مرتبہ جیل میں ٹرائل کی درخواست کی تھی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ درخواست صرف ایک مرتبہ کے لیے تھی، اٹارنی جنرل صاحب ہم نے آپ سے سوال پوچھے تھے، آپ نے سمری بنا دی ؟ اٹارنی جنرل جیل ٹرائل سے متعلق کابینہ کی منظوری کی دستاویز عدالت میں پیش نہ کرسکے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ کی منظوری موجود ہے، میں زبان دیتا ہوں وہ پیش کردوں گا، کابینہ کی منظوری سے پہلے دو اہم ایونٹس ہوئے، سات نومبر کو تین، چودہ نومبر کو دو گواہان کے بیان ریکارڈ کئے گئے۔

جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جب تین گواہان کے بیان ریکارڈ کئے گئے وہ ویسی ہی صورتحال میں ہوئے جیسے فرد جرم ہوئی ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی جی ، وکلا کو عدالت میں جانے کی اجازت تھی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کہا کہ کہا گیا کہ جیل میں کورٹ دس بائے دس کے کمرے میں لگائی گئی۔

اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ جیل میں جو پہلے کورٹ روم تھا وہاں صرف پندرہ سے سولہ افراد کی گنجائش تھی۔ اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ جیل میں عدالت کیلئے ویسی سہولیات موجود نہیں، جس کمرے میں پہلے سماعت ہوتی رہی اس میں صرف پندرہ افراد کی گنجائش تھی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ ہم پر چھوڑ دیں، کچھ چیزوں کو ہم نے انٹرپرٹ کرنا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف سائفر کیس کے ٹرائل روکنے کے حکم میں 20 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کی سماعت پیر دن گیارہ بجے کریں گے اسی روز فیصلہ کر دیں گے۔