12 April 2024

Homeپاکستاننگراں وزیراعظم کا غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

نگراں وزیراعظم کا غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے غزہ کا محاصرہ ختم اور جنگ بند کرنے کا مطالبہ کر دیا

نگراں وزیراعظم کا غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: (سنو نیوز) نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے غزہ کا محاصرہ ختم اور جنگ بند کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان فلسطین کے مظلوم عوام ساتھ کھڑا ہے، غزہ میں جاری تشدد اور جانی نقصان پر گہری تشویش ہے۔


انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا غزہ میں شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا تہذیب کے تمام اصولوں کے خلاف اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اقوام متحدہ اور عالمی برادری فوری طور پر محصور غزہ میں درکار امدادی سامان کی فراہمی کے لیے محفوظ راہداری کھولنے کا انتظام کرے۔

صیہونی فوج کی بمباری، فلسطینی شہدا کی تعداد 2600 ہوگئی

یاد رہے غزہ پر اسرائیل کے حملے کے دسویں روز صیہونی فوج کی وحشیانہ بمباری میں فلسطینی شہدا کی تعداد 2600 ہوگئی۔ غزہ کے ہسپتالوں میں جنریٹرز اور انسانی جان بچانے کی طبی مشینری کو چلانے کیلئے صرف ایک دن کا ایندھن رہ گیا۔

اسرائیل نے فلسطینی سرزمین کے شمال میں رہنے والے غزہ کے تقریباً 11 لاکھ شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ زمینی حملے سے قبل جنوب کی طرف انخلا کر جائیں، اسرائیلی فوج نے اشارہ دیا ہے کہ وہ غزہ شہر پر توجہ مرکوز کرے گی۔

فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کی سربراہ جولیٹ ٹاؤما نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق 10 لاکھ افراد ان 7 دنوں میں بے گھر ہوگئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق انخلا کے لیے اسرائیل کے الٹی میٹم کے نتیجے میں فلسطین کے جنوبی علاقے کی طرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ایجنسی او سی ایچ اے نے بیان میں کہا کہ غزہ پٹی کے شمال سے جنوب کی طرف بڑے پیمانے پر منتقلی جاری ہے جب اسرائیل نے شہریوں کو بری فوج کی کارروائی سے قبل علاقہ چھوڑنے کا کہا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں کی رپورٹ ہے کہ اندرونی طور پر بے گھر (آئی ڈی پیز) کی تعداد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بہت زیادہ ہوگئی ہے تاہم حتمی تعداد تاحال معلوم نہیں ہوئی۔

رپورٹ کےمطابق تقریباً 64 فیصد افراد کی میزبانی فلسطینی مہاجرین کے تعاون کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے کر رہی ہے اور 102 مقامات پر ہنگامی پناگاہیں بنائی گئی ہیں۔33 ہزار 54 آئی ڈی پیز کو 36 اسکولوں میں رکھا گیا ہے۔

بیان میں کہا کہ اندازے کےمطابق ایک لاکھ 53 ہزار آئی ڈی پیز جن کے گھر تباہ یا نقصان پہنچا ہے یا خوف کی وجہ سے گھر چھوڑ چکے ہیں، وہ اس وقت اپنے رشتہ داروں یا ہمسائیوں کے ساتھ اور دیگر مقامات میں رہ رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی، ہسپتالوں زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ایک ماہ کے دوران استعمال ہونے ولی ادویات ایک دن میں استعمال ہو رہی ہیں، غزہ میں پینے کے صاف پانی، خوراک اور ایندھن کی شدید قلت ہے۔

غزہ میں فلسطینیوں پر اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں بڑے مظاہرے کیے گئے اور ریلیوں میں لوگوں نے امن اور فلسطین کے حق میں نعرے لگائے اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو ظلم سے روکے۔

پیرس، لندن، واشنگٹن ڈی سی، جرمنی اور دیگر مغربی ممالک میں حکام کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کے باوجود عوام نے اسرائیلی مظالم مسترد کردیے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں عراق، ایران، لبنان اور شام میں بھی بڑی ریلیاں نکالی گئیں اور ظلم کے خلاف متحد ہونے اور غزہ میں بحران روکنے پر زور دیا گیا۔

کراچی میں پریس کلب، شارع فیصل میں بھی ریلیاں نکالی گئی ہیں جہاں ہزاروں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔

مراکش میں بھی بڑا مظاہرہ کیا گیا اور ٹوئٹر اس کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں۔ نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم کے سینٹرل اسکوائر میں مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جس میں فری فلسطین اور جنگ روک دو اور غزہ پر حملے روک دو کے نعرے درج تھے۔

دوسری جانب اسرائیل کا جنگی جنون بڑھتا جا رہا ہے۔ غزہ کی سرحد پر بڑی تعداد میں فوج اور جنگی سازو سامان پہنچا دیا گیا۔

ادھر امریکی صدر جوبائیڈن نے غزہ پر قبضے کی کوشش کو اسرائیلی کی بڑی غلطی قرار دیا ہے۔

Share With:
Rate This Article