19 April 2024

Homecolumnتو پھر کیا طے ہوا ہے؟

تو پھر کیا طے ہوا ہے؟

columnist Shehryar Khan

تو پھر کیا طے ہوا ہے؟

تحریر: شہریار خان

تو پھر کیا اب طے پایا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کرپٹ نہیں ہیں؟ کیا مولانا فضل الرحمان اب ڈیزل نہیں ہیں بلکہ پھر مولانا بلکہ حضرت مولانا فضل الرحمان دامۃ برکاۃ عالیہ بن گئے ہیں؟ تو پھر اب کیا طے پایا ہے کہ تازہ تازہ خبر آئی ہے ڈیزل ہمارا بھائی ہے؟

شاید اب یہ طے پایا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ہی عمران خان کے بعد دنیا کا واحد سچا انسان ہے؟ کیونکہ انہوں نے باجوہ اور فیض کی سازش بے نقاب کر دی ہے جس کے ذریعہ فرقہ عمرانیہ کے بانی کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ ہٹایا جانا تھا۔

کیا اب یہ طے پایا ہے کہ فضلو اور ڈیزل کسی کو بھی نہیں کہا جائے گا؟ جے یو آئی کے کارکن بھی پریشان ہیں کہ یا حضرت یہ وہ یہودی ایجنٹ ہے جس کے ساتھ آپ بیٹھتے نہیں تھے۔ جب بلاول بھٹو پچھلے برس آپ کے پاس ڈیرہ اسماعیل خان آئے اور کہا کہ ہمیں تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے۔ مگر آپ نے فرمایا کہ عمران یہودی ایجنٹ ہے، پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں ہے جس کے ساتھ گفتگو کی جا سکے۔

تو کیا اب یہ طے پایا ہے کہ یہودیوں کے ساتھ بات چیت ہو سکتی ہے؟ تو کیا اب یہ طے پا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے؟ یا حضرت! آپ سے جب بلاول بھٹو نے کہا تھا اختلافات شدید تھے مگر پھر بھی ذوالفقار علی بھٹو خود مولانا مفتی محمود سے ملنے گئے اور ان کے مابین خوشگوار انداز میں گفتگو ہوئی۔ تو آپ نے کہا تھا نہ تم ذوالفقار علی بھٹو ہو اور نہ ہی میں مولانا مفتی محمود ہوں۔

تو کیا اب یہ طے پایا کہ آپ مفتی محمود ہیں اور عمران خان بھٹو ہے؟ یہ وہی مولانا ہیں جن سے جب بھی سوال کیا گیا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے آپ بات چیت کر لیتے ہیں تو پی ٹی آئی سے کیوں نہیں؟ تو آپ فرماتے کہ یہ شرپسندوں کا ٹولہ ہے۔ غنڈے ہیں، یہ مظاہرہ کرتے ہیں تو آگ لگاتے ہیں، توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ ایسا کام سیاستدان نہیں کرتے۔

تو کیا اب یہ طے پا گیا ہے کہ وہ شر پسند نہیں ہیں بلکہ سیاستدان ہیں؟ مولانا فضل الرحمان کل تک اسٹیبلشمنٹ کو للکارتے رہے۔ وہ کہتے تھے جو نیوٹرل ہو گئے ہیں انہیں عمران کیوں نیوٹرل نہیں رہنے دے رہا؟

یہ بھی پڑھیں:

کارکردگی ہار گئی، جھوٹ جیت گیا

آج جب انہوں نے بتایا کہ انہیں اور دیگر تمام جماعتوں کے قائدین کو سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے کہا۔ تو کیا اب یہ طے پایا ہے کہ حقیقی جمہوریت وہ ہو گی جو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا حکم ہوا کرے گا؟

عمران خان کی حکومت تھی تو مولانا فضل الرحمان ان پر فیض حمید اور جنرل باجوہ کی کٹھ پتلی کہا کرتے تھے۔ اب جب مولانا فضل الرحمان انتخابات میں مطلوبہ تعداد میں نشستیں حاصل نہ کر سکے تو کہتے ہیں کہ ان کی مذہبی جماعت جے یو آئی سمیت تمام جماعتوں نے جنرل باجوہ اور فیض حمید کے کہنے پر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کروائی۔

تو کیا اب یہ طے ہوا ہے کہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی مدد اور حمایت خالصتاً حلال ہے؟ عمران کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت بنائی گئی تو پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان تھے۔

ہر مشاورتی اجلاس میں مولانا فضل الرحمان بھی موجود ہوتے اور ان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود بھی شریک ہوتے۔ حکومت کے خاتمے تک یہ سب اس طرح ساتھ رہے جس طرح فلم “ہم ساتھ ساتھ ہیں ” میں تمام بھائی، بہنیں، ان کی اولادیں، دوست احباب مل جل کر رہا کرتے تھے۔

راوی سب سکھ چین لکھ رہا تھا، پھر اچانک الیکشن ہو گئے۔ انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو بھی سولہ ماہ کا وہ فلمی پیار بھول گئے۔ انہیں شریف خاندان اچانک پھر برا لگنے لگا۔ قیدی نمبر 420انہیں پیارا لگنے لگا۔ انہوں نے جی بھر کے سولہ ماہ کے تمام اچھے کاموں کی ذمہ داری قبول کی جبکہ جو بھی برا ہوا وہ سب ن لیگ کے کھاتے میں ڈال دیا۔

نشستیں ملنے تک انہوں نے خلع لینے کا فیصلہ ہی کر رکھا تھا مگر پھر وسیع تر قومی مفاد میں وہ ایک مرتبہ پھر ن لیگ کی حکومت کو ووٹ دینے پر آمادہ ہو گئے۔ بلاول نے ن لیگ کی حکومت کو ووٹ دینے کا اعلان اسی طرح کیا جس طرح اعتزاز احسن اور میاں رضا ربانی نے فوجی عدالتوں کے قیام کے بل کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے اعلان کیا تھا۔

ابھی انہوں نے وزارتیں نہیں مانگیں مگر کچھ روز میں یہ جھجک بھی دور ہو جائے گی۔ بلاول کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ مولانا فضل الرحمان بھی یہی اعلان کر دیں گے کہ انتخابی نتائج پر شدید تحفظات ہونے کے باوجود ہم ساتھ ساتھ ہیں مگرانہوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ اپنی تمام دیرینہ مخالفت، اپنے خلاف پی ٹی آئی کے دھرنا میں لگائے گئے تمام بینرز، عمران خان کی تمام تقریریں بھلا کر اپنے پرانے بھائیوں کی حکومت کے بجائے پرانے رقیب کے ساتھ بیٹھنا پسند کیا۔

کل سے جے یو آئی کے کارکن سوچ رہے ہیں وہ کیا بیانیہ بنائیں جس کے ذریعہ یہودی ایجنٹ کی پارٹی میں بیٹھ کر شرمندگی محسوس نہ ہو۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے تمام معتبر کارکنان بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ کل تک جسے ڈیزل اور فضلو کہتے رہے اسے کیسے قوم کا ہمدرد بتائیں؟

تو اب یہ طے پایا ہے کہ جے یو آئی کارکن کہیں گے کہ تازہ خبر آئی ہے یہودی ہمارا بھائی ہے۔ پی ٹی آئی کارکن کہیں گے تازہ خبر آئی ہے ڈیزل ہمارا بھائی ہے۔ سب کچھ طے شدہ ہے اور اب طے یہ ہوا ہے کہ چہرے بدلیں گے نظام وہی رہے گا۔

Share With:
Rate This Article