Suno News
فیض آباد دھرنا فیصلے پرعملدرآمد کے لیے کمیشن تشکیل
Image
اسلام آباد: (سنو نیوز) وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کمیشن تشکیل دے دیا۔ ریٹائرڈ آئی جی اختر علی شاہ کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے بنائے گئے کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ تین رکنی کمیشن میں ریٹائرڈ آئی جی اختر علی شاہ، سابق آئی جی طاہر عالم خان اور ایڈشنل سیکریٹری داخلہ خوشحال خان شامل ہیں۔ وفاقی حکومت کے گیزٹ نوٹیفکیشن میں انکوائری کمیشن کے ٹی او آر بھی شامل ہیں جس میں کہا گیا کہ انکوائری کمیشن ٹی ایل پی کی غیر قانونی مالی امداد کرنے والوں کی تحقیقات کرے گا، کمیشن فیض آباد دھرنے کے حق میں بیان اور فتوی دینے والوں کے خلاف ایکشن کی تجویز دے گا۔ کمیشن پیمرا کے خلاف پیمرا رولز کی خلاف ورزی کرنے والے کیبل آپریٹرز اور براڈکاسٹرز کے خلاف تحقیقات کرے گا، انکوائری کمیشن میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت اور تشدد پھیلانے کی جانچ اور اس سے بچاؤ کی تجاویز دے گا۔ فیض آباد دھرنا کیس، سچ سب کو پتہ ہے بولتا کوئی نہیں: سپریم کورٹ دوسری جانب چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔ جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ کا حصہ ہیں۔ عدالت کے نوٹس پر شیخ رشید احمد پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ نہیں ہو گا کہ اوپر سے حکم آیا ہے تو نظرثانی دائر کر دی۔ جس پر وکیل شیخ رشید نے کہا کہ کچھ غلط فہمی پیدا ہوئی تھی اس لیے نظرثانی درخواست دائر کی گئی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سچ سب کو پتہ ہے بولتا کوئی نہیں، کوئی ہمت نہیں کرتا۔ جس پر وکیل شیخ رشید نے کہا کہ آج کل تو سچ بولنا اور ہمت کرنا کچھ زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آج کل کی بات نہ کریں ہم اس وقت کی بات کر رہے ہیں، کیا سپریم کورٹ کو کوئی باہر سے کنٹرول کر رہا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسییٰ نے وکیل شیخ رشید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کی درخواست آجاتی ہے پھر کئی سال تک لگتی ہی نہیں، پھر کہا جاتا ہے کہ فیصلے پر عمل نہیں کیا جارہا، کیونکہ نظرثانی زیر التوا ہے، آپ اب بھی یہ سچ نہیں بولیں گے کہ کس نے نظرثانی کا کہا تھا، آپ نے نظرثانی کی درخواست ہی دائر کیوں کی تھی، چار سال لٹکائے رکھا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جو ایم این اے رہ چکے اور وزیر رہ چکے وہ تو ذمہ دار ہیں نا، جلاؤ گیراؤ کا کہتے ہیں تو اس پر کھڑے بھی رہیں نا، کہیں نا کہ ہاں میں نے حمایت کی تھی، دوبارہ موقع ملے تو کیا پھر ملک کی خدمت کریں گے ؟۔ شیخ رشید کو روسٹرم پر آکر بولنے سے چیف جسٹس نے روک دیا۔ چیف جسٹس نے شیخ رشید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے نہیں پوچھ رہے، آپ کے وکیل سے پوچھ رہے ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شیخ رشید ایک سینئر پارلیمنٹرین ہیں، آپ کے حوالے سے عدالت نے کچھ نہیں کہا۔ سپریم کورٹ نے شیخ رشید کی نظرثانی کی درخواست واپس لینے پر خارج کردی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی جانب سے فیض آباد دھرنا فیصلے پر عملدرآمد کے لیے تشکیل دیئے گئے کمیشن کا نوٹیفیکیشن عدالت میں پیش کر دیا۔ اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن کے ٹی او آر پڑھ کر سنائے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وزارت دفاع میں سے کسی کو کمیشن میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ جس پ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت اس کمیشن سے تعاون کرنے کی پابند ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کمیشن جیسے بولائے اور وہ نہ آئے تو کمیشن اسے گرفتار بھی کروا سکتا ہے، 4 سال سے ہمارے سامنے کچھ نہیں آیا، 60 دن کے اندر کمیشن کی رپورٹ آئے گی اسے ہم دیکھ لیں گے، ابھی کمیشن نے کام شروع نہیں کیا تو شک کیسے ظاہر کریں۔ ابصار عالم نے کہا کہ میں اس ملک کی تاریخ کی بنیاد پر شک ظاہر کر رہا ہوں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جس نے سچ نکلوانا ہوتا ہے وہ نکلوا لیتا ہے، سچ نکلوانا ہو تو تفتشی افسر بھی نکلوا لیتا ہے، سچ نہ نکالنا ہو تو آئی جی بھی نہیں نکلوا سکتا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کمیشن کو اختیار ہے وہ سابق وزیر اعظم، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت کسی کو بھی بلا سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کوئی استثنی تو نہیں دیا کہ کمیشن کسی کو نہیں بلا سکتا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمیشن سب کو بلا سکتا ہے، کوئی استثنی نہیں دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت 22 جنوری تک ملتوی کر دی۔