29 November 2023

Homeتازہ ترینبھارتی فوجی عدالت نے 3 معصوم کشمیریوں کے قاتل کو رہا کر دیا

بھارتی فوجی عدالت نے 3 معصوم کشمیریوں کے قاتل کو رہا کر دیا

ہندوستان کی فوجی عدالت نے 3 معصوم کشمیریوں کے قاتل کو رہا کر دیا/فائل فوٹو

بھارتی فوجی عدالت نے 3 معصوم کشمیریوں کے قاتل کو رہا کر دیا

لاہور: (سنو نیوز) معصوم کشمیری ایک بار پھر انصاف سے محروم ہوگئے، ہندوستان کی فوجی عدالت نے 3 معصوم کشمیریوں کے قاتل کو رہا کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق 13 نومبر کو آرمڈ ٹربیونل فورسز نے کیپٹن بھوپندر کے خلاف ناکافی ثبوت ہونے کا بہانہ کر کے نہ صرف سزائے موت کے فیصلے کو تنسیخ کیا بلکہ اسے رہا بھی کر دیا۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق کیپٹن بھوپندر سنگھ نے 18 جولائی 2020 کو امشی پورہ میں 3 کشمیری نوجوانوں کو جعلی انکاؤنٹر میں شہید کیا تھا۔

دی وائر کی رپورٹ کے مطابق کشمیری نوجوانوں کو قتل کرنے کے بعد ہندوستانی فوج کی جانب سے دہشتگرد کے طور پر دکھایا گیا جبکہ قتل کیے جانے والے 3 کشمیری درحقیقت مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے معصوم مزدور تھے۔ سول عدالت میں تینوں کشمیریوں کی بے گناہی اور کیپٹن بھوپندر سنگھ پر قتل کا جرم ثابت ہوا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مارچ 2000 میں بھی ہندوستانی فوج نے 5 بےگناہ کشمیریوں کو اننت ناگ میں ایسے ہی جعلی انکاؤنٹر میں ہلاک کیا اور پھر دہشتگرد کے طور پر پیش کیا۔ بپضم رگ کے مطابق اپریل 2023 میں ہندوستانی فوجیوں نے 3 کشمیریوں کو دہشتگرد بتا کر مچل سیکٹر میں جعلی انکاؤنٹر میں شہید کر دیا تھا۔ مچل میں جعلی انکاآنٹر کرنے پر 5 ہندوستانی فوجیوں کو عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔

الجزیرہ کے مطابق ہندوستانی فوجی عدالت نے اس فیصلے کی بھی تنسیخ کر کے پانچوں مجرموں کو رہا کر دیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ہر سال ہزاروں معصوم کشمیری جعلی انکاؤنٹرز میں ہلاک کر دیے جاتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال 50 سے زائد کشمیری ہندوستانی فوجیوں کے ہاتھوں جعلی انکاؤنٹرز میں قتل کردیے جاتے ہیں۔

یاد رہے مارچ 2023 میں ہندوستان کی عدالت نے کیپٹن بھوپندر سنگھ کو 3 کشمیری نوجوانوں کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔

نمائندہ خصوصی او آئی سی نے کشمیر کا معاملہ نازک قرار دے دیا

خیال کچھ روز قبل نمائندہ خصوصی او آئی سی نے کشمیر کا معاملہ نازک قرار دیتے ہوئے کہا کہ او آئی سی میں مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

نمائندہ خصوصی او آئی سی نے سیکریٹری خارجہ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ بہت نازک ہے،او آئی سی فورم پر زیر بحث رہتا ہے، دورہ پاکستان کا مقصد مسئلہ کشمیر کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا تھا، کشمیر طویل عرصے سے حل طلب مسئلہ ہے، گزشتہ 4 دہائیوں سے او آئی سی مسئلہ کشمیر پر توجہ دیئے ہوئے ہیں۔

اس موقع پر سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ نمائندہ او آئی سی کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا، مقبوضہ کشمیر پر بھارت غیر قانونی طور پر قابض ہے، بھارتی حکومت کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔

سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت حق خودارادیت ملنا چاہیے، یاسین ملک، شبیر شاہ سمیت حریت قیادت پابند سلاسل ہے، 5 اگست کے بھارتی اقدامات کی ہر فورم پر مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کسی بھی صورت کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتا، پاکستان نے 5 اگست کے بھارتی اقدامات کی ہر فورم پر مذمت کی ہے، بھارت کسی بھی صورت کشمیر کی متنازعہ حیثیت کوتبدیل نہیں کرسکتا، مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد ہے۔

Share With:
Rate This Article