21 February 2024

Homeتازہ ترینعوام پرپیٹرول بم گرے گا یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا

عوام پرپیٹرول بم گرے گا یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا

عوام پرپیٹرول بم گرے گا یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا

عوام پرپیٹرول بم گرے گا یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا

اسلام آباد: (سنو نیوز) مہنگائی کے ستائے پاکستانی عوام پرایک اورپیٹرول بم گرے گایا نہیں؟ اس کا فیصلہ آج کیا جائے گا۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اس اہم معاملے پراعلیٰ سطح اجلاس طلب کر لیا ہے۔

اس اجلاس میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں بارے بریفنگ دی جائے گی۔ اس حوالے سےآئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا) کی سفارشات پربھی غورکیاجائےگا۔

اجلاس میں نگرا ن وزیر خزانہ اور معاشی ٹیم شرکت کرے گی۔ نگران وزیراعظم کےزیر صدارت بجلی چوری کی روک تھام پربھی اجلاس ہوگا۔ وزارت توانائی بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی رپورٹ پیش کرے گی۔

خیال رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت 16 ستمبر سے پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اضافہ کر سکتی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق مٹی کا تیل 10 روپے فی لیٹر مہنگا ہو سکتا ہے۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں اگست میں معمول سے کم رہیں۔ سالانہ بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اگست میں مجموعی پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات 11 فیصد کمی سے 1267 کلو ٹن رہیں۔ اگست 2022 میں پیٹرولیم مصنوعات درآمدات 1 ہزار 427 کلو ٹن تھی۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی جولائی میں صفر امپورٹ کے بعد اگست میں خریداری کی گئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی امپورٹ سالانہ 48 فیصد کمی سے 110 کلو ٹن رہی۔ گزشتہ سال اگست میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی امپورٹ 212 کلو ٹن تھی۔ ذرائع آئل کمپنیز کے مطابق مقامی طلب میں کمی کے سبب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی امپورٹ میں کمی کا رجحان ہے۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے نگران وزیر توانائی محمد علی کو خط لکھ کر پیٹرولیم ڈیلرز کو درپیش مسائل کا تذکرہ کیا ہے۔ 5 نکات خط میں ڈیلرز مارجن، اسمگلنگ، بینک کارڈ چارجز، بجلی کے ٹیرف اور مارجن پرائس سےمتعلق لکھا گیا۔

خط میں کہا گیا کہ موجودہ مہنگائی کے تناظر میں پیٹرولیم ڈیلز کا مارجن شرح کی بنیاد پر ہونا چاہیئے۔ ماضی میں ڈیلروں کا مارجن ہمیشہ زیادہ رہا ہے۔ حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق او ایم سی کا مارجن ڈیلرز کے مارجن سے زیادہ ہے۔

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے خط میں کہا کہ ایرانی ڈیزل اور پیٹرول کی سمگلنگ عروج پر ہے جس سے ملکی معیشت اور ڈیلرز مارجن متاثر ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کریڈٹ کارڈز کے ذریعے کی گئی ٹرانزیکشن کی فیس میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ فیس بھی ڈیلرز ہی ادا کرتے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ کیونکہ پیٹرول کی قیمت زیادہ ہے لہذااس فیس کی مد میں ڈیلرز کا منافع چلا جاتا ہے، چونکہ پیٹرول ضروری خدمات کے زمرے میں آتا ہے، بجلی کے نرخ صنعتی ٹیرف کے برابر ہونے چاہئیں۔

پیٹرولیم ڈیلرز نے 15 دن کے بجائے ایک ماہ کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں تبدیلی کے قریب او ایم سی ڈیلرز کو ایندھن فراہم کرنا بند کر دیتا ہے، جس سے پٹرول کی قلت کا سامنا ہوتا ہے لہذا ایسا کرنے سے روکا جائے، آئل مارکیٹننگ کمپنیوں کو قیمت میں تبدیلی کے آخری دن تک ایندھن فراہم کرنے سے متعلق بھی کہا جائے۔ خط میں اسمگلنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Share With:
Rate This Article